جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا درس دینے والے پہلے اسلامی دھارے میں شامل ہوں،مولانافضل الرحمان کا انکار،بڑا اعلان کردیا

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)جمعیت علما اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ دینی مدارس کا کردار قیامت تک جاری رہیگا۔ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا درس دینے والے پہلے اسلامی دھارے میں شامل ہوں۔ برصغیر کے تقسیم کیساتھ ہی ہمارے نظام تعلیم کو بھی تقسیم کیا گیا سرکار اور مدارس کے نظام تعلیم کو الگ الگ تصور کیا جاتا ہے۔ اس تقسیم کو ایک سازش تو قرار دیا جاسکتا ہے

لیکن اس پر ان کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے، خوش آئند بات تو یہ ہے کہ ہمارے مدرسے کا کوئی استاذ اور طالب علم تمہارے دروازے پر نوکریاں مانگنے نہیں آئے بلکہ لاکھوں گریجویٹ لوگ سرکار سے نوکریاں مانگنے کیلئے ان دروازوں پر ہیں مگر حکمران پہلے سے برسر روزگار نوجوانوں کو بیروزگار کرنے پر تلا ہوئے ہیں ؎۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے مختلف جامعات جن میں جامعہ بنوری ٹاؤن میں جامعہ کے رئیس اور وفاق المدارس کے صدر مولانا عبدالرزاق سکندر، مولانا امداد اللہ سے ملاقات، جامعہ صدیقیہ کے رئیس مولانا ڈاکٹر منظور مینگل سے ان کی والدہ کی تعزیت، جامعہ دارالخیر کے بانی مولانا اسفندیارخان مرحوم کے انتقال پر تعزیت اور جامعہ احسن العلوم کے رئیس مفتی زرولی خان سے ملاقات کے موقع پر گفتگو اور خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جمعیت علما اسلام کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو، محمد اسلم غوری ڈاکٹر عتیق الرحمن، حاجی جلیل جان ودیگر بھی موجود تھے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا آج ہم انبیا علیہم السلام کی تعلیمات کو دنیوی علوم کہا جاتا ہے۔ ہمارے اکابرین میں کوئی شخصیت ایسی نہیں مل رہی ہے جنہوں نے علی گڑھ کے نصاب تعلیم پر اعتراض کیا ہو ہاں اس میں اصلاحات کیلئے ضرور جدوجہد کی۔ ہمارے اکابرین نے ہمیشہ نظام تعلیم کی اس تقسیم کی مخالفت کی ہے آج حکمرانوں کو مدارس کے طلبا کی فکر کیسے لاحق ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کا کردار قیامت تک جاری رہیگا۔ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا درس دینے والے پہلے اسلامی دھارے میں شامل ہوں۔ دینی مدارس قومی کے دھارے میں شامل ہی نہیں بلکہ اسکے علمبردار ہیں۔دینی مدارس کا نصاب تعلیم ایک ایسا جامع نصاب ہے جسکا متبادل دنیابھر کی یونیورسٹیز نہیں دے سکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے والے بیرونی ایجنڈے کو نہ صرف مسترد

کرتے ہیں بلکہ دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری کا ہر طرح دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے طلبا کیلئے تین چیزیں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہیں نمبر 1 کتاب 2 استاد 3 مدرسہ، یہی وجہ ہے کہ طلبا انکا حددرجہ احترام کرتے ہیں جسکی وجہ سے دینی مدارس کے طلبا ہر میدان میں سرخرو ہو رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دینی مدارس کے طلبا میں عصری مضامین میں ٹاپ کرنے والے طلبا کو ترجیح دینا علوم نبوتؐ

کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ ایسی سوچ قائم کرنے سے دینی علوم کی روح متاثر ہوتی ہے لہذا ارباب مدارس کو ایسی سوچ کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ انہوں نیکہا کہ دینی مدارس علوم نبوتؐ کی چھانیاں ہیں انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے بیرونی ایجنڈے کی تکمیل سے دینی مدارس کی اصل حیثیت کو مجروح کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا جائے گا۔ علاوہ ازیں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے جماعتی احباب

کے ہمراہ جامعہ دارالخیر گلستان جوہر جاکر شیخ الحدیث مولانا محمد اسفندیار خان کے انتقال پر انکے صاحبزادوں سے اظہار تعزیت اوردعائے مغفرت کرتے ہوئے کہاکہ مولانا اسفندیار خان رح نے اپنی ساری زندگی علوم نبوتؐ کی اشاعت اور ملک میں اسلام کی سربلندی کیلئے وقف کررکھی تھی۔ وہ علم و حکمت کے پہاڑ تھے۔ انہوں نے کہاکہ مولانا اسفندیار خان رح کی دینی قومی اور ملی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…