نوازشریف کی صحت پھر تشویشناک، 24 گھنٹوں میں بیرون ملک منتقل کرنے کا مشورہ دیدیا گیا

  بدھ‬‮ 13 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  23:55

لاہور(این این آئی)سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا ان کی رہائشگاہ پر علاج معلالجہ جاری ہے اورڈاکٹرز پلیٹ لیٹس کے معاملے پر شدید تشویش کا شکار ہیں، ڈاکٹرز نے شریف فیملی کو نواز شریف کو چوبیس گھنٹوں میں بیرون ملک منتقل کرنے کا مشورہ دیدیا۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کااپنی رہائشگاہ جاتی امراء میں شریف میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹروں کی زیر نگرانی علاج معالجہ جاری ہے۔سٹرائیڈز کی ڈوز کے باوجود نواز شریف کے پلیٹ لیٹس 22کے قریب ہیں اور اس صورتحال میں ڈاکٹرز شدید پریشانی کا شکارہیں۔ نواز شریف کے جسم پر بننے والے دھبے اب اپنے حجم میں


بڑھنا شروع ہو گئے۔ دوسری جانب نواز شریف کا بلڈ پریشر اور شوگر لیول بھی مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں کی نواز شریف کے اہل خانہ سے مشاورت جاری ہے اور خاندان کو رائے دی گئی ہے کہ اگر بیرون ملک روانگی میں مزید تاخیر ہوئی تو سابق وزیراعظم کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔سٹیرائیڈز کی اڈوز دینے سے پہلے ہی نواز شریف کی صحت پر گہرے مضمرات سامنے آ گئے ہیں،مزید ہائی ڈوز دی جاتی ہے تو اس سے پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کاوزن گزشتہ دو روز میں مزید کم ہوا ہے جبکہ شوگر اور دیگر بیماریوں کے باعث نواز شریف کی قوت مدافعت انتہائی کم سطح پر آچکی ہے۔موجودہ صورتحال میں نواز شریف کو پاکستان میں رکھنا انتہائی خطرناک ہو گا، اگر چوبیس گھنٹوں سے زائد تاخیر سے انہیں روانہ کیا جاتا ہے تو مزید سٹیرائیڈز دینا بھی خطرناک ہوگا۔ذرائع کے مطابق شریف میڈیکل سٹی کے ڈاکٹرز نواز شریف کے پلیٹ لیس کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں۔

موضوعات:

loading...