ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمن حواس باختہ ہو چکے، ان کو ایک اچھے سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے،وہ اپنی شکست کا بدلہ پورے پاکستان سے لیناچاہتے ہیں، حیران کن دعویٰ

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن حواس باختہ ہو چکے ہیں ان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ ان کا دماغی توازن متاثر ہوا ہے ان کو ایک اچھے سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے۔ سڑکیں بند کرنے سے عوام کو تکلیف ہوگی

مولانا فضل الرحمان اپنی شکست کا بدلہ پورے پاکستان سے لینا چاہتا ہے انہیں کسی اور نے نہیں اپنے حلقے کے عوام نے مسترد کیا ہے۔ویڈیو پیغام میں صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان شروع دن سے انتشار پھیلانے کے منصوبے بنا رہے تھے مگر انہیں شکست ہوئی اور دھرنا انکا ناکام ہو گیا عوام نے ان کے دھرنے کو مسترد کر دیا۔ مولانا فضل الرحمان کے پاس حکومت کے خلاف احتجاج کا کوئی جواز نہیں عوام نے ان کے بیانیے کو مسترد کیا ہے۔شوکت یوسفزئی کاکہنا تھا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے مشکل دور گزر گیا اب عوام کو ریلیف دینے کا وقت آیا ہے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا مولانا فضل الرحمان سیاسی انتشار پھیلا کر ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔انکاکہنا تھا کہ پرامن احتجاج کی پہلے ہی حکومت اجازت دے چکی لیکن لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن حواس باختہ ہو چکے ہیں ان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ ان کا دماغی توازن متاثر ہوا ہے ان کو ایک اچھے سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے۔ سڑکیں بند کرنے سے عوام کو تکلیف ہوگی مولانا فضل الرحمان اپنی شکست کا بدلہ پورے پاکستان سے لینا چاہتا ہے انہیں کسی اور نے نہیں اپنے حلقے کے عوام نے مسترد کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…