ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

مولانا جی! اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر۔۔۔استعفیٰ، نئے الیکشن، اسلام خطرے میں،کشمیر بیچ دیا، کہاں گیا یہ سب کچھ، کم ازکم نوازشریف کی لندن رخصتی کا ہی انتظارکرلیتے، مولانا فضل الرحمان پر شدید تنقید

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ ختم کرتے ہوئے ملک بھر میں شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کردیا ہے، ملک بھر میں احتجاجاً اہم روڈز بند کر دیے جائیں گے، مولانا فضل الرحمان کے اس اعلان کے بعد معروف صحافی ارشاد بھٹی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں مولانا فضل الرحمان پر شدید تنقید کی، انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ”مولانا جی اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر۔۔ مولانا جی بس 11 دن میں ہی بس ہو گئی،

استعفیٰ، نئے الیکشن، اسلام خطرے میں، تحفظ ناموس رسالت خطرے میں، یہودی ایجنٹ کی حکومت، اسرائیل کو تسلیم کیاجا رہا ہے، کشمیر بیچ دیا گیا، کہاں گیا یہ سب کچھ، مولانا جی اور نہیں کم از کم نواز شریف کی لندن رخصتی کا ہی انتظار کر لیتے۔“ واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنے ختم کر نے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ دیوار ہل چکی ہے، اب گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکے کی ضرورت ہے، آپ نے ملک کا نقصان نہیں کر نا،آپ ہمیشہ پر امن رہے اور آئندہ پر امن رہنا ہوگا،کوئی ریاستی قوت ہمارے جوانوں کا راستہ نہ روکے،جس طرح مجھے اپنے کارکن کا خون اور زندگی عزیز ہے اسی طرح پاکستانی پولیس، ایف سی،رینجرز اور فوج کا خون بھی عزیز ہے،ہم سب کی جنگ لڑ رہے ہیں،ادارے بھی ہمارا احترام کریں، ناجائز حکمرانوں کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی،حکومت نوازشریف کو باہر جانے سے روک رہی ہے، ہم حکومتی رویئے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بدھ کو آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ دو ہفتوں سے قومی سطح کا اجتماع تسلسل سے ہوا، اب نئے محاذ پر جانے کا اعلان کر دیا گیا ہے، ہمارے جاں نثار اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ہماری قوت یہاں جمع ہے اور وہاں ہمارے ساتھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے دیگر کارکنان یہاں دھرنے میں شریک افراد کے تعاون کے منتظر ہوں گے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم سڑکوں پر موجود اپنے ساتھیوں کے پاس جائیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ دیوار ہل چکی ہے اس کو ایک دھکا دینے کی ضرورت ہیں، ہم اگلے مرحلے میں اس دیوار کو گرادیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…