ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ایک دفعہ کہہ دیا ہے حکومت ناجائز ہے تو کسی کا باپ بھی ہم سے جائز نہیں منواسکتا، وقت آگیا ہے،مولانافضل الرحمان نے بڑ ا اعلان کردیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربرا ہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ پوری قوم گو عمران گو کررہی ہے،جابر اور نا جائز حکومت کے خاتمے کے لیے سفر جاری ہے اور جاری رہے گا،ایک دفعہ کہہ دیا ہے حکومت ناجائز ہے تو کسی کا باپ بھی ہم سے جائز نہیں منواسکتا، وقت آگیا ہے حکمرانوں سے حساب لیا جائے،یہ لوگ انڈیا اور اسرائیل سے فنڈ لیتے رہے ہیں، الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرے،

ملک افراتفری کا شکار ہے،حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے،پوری قوم ایک پیج ہے، تمام جماعتوں سے مشاورت جاری ہے،ہم دباؤ بڑھاتے چلے جائیں گے،ہم جو فیصلے کریں گے وی مزید دباؤ بڑھانے کیلئے کریں گے۔ پیر کو آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ،جابر اور نا جائز حکومت کے خاتمے کے لیے سفر جاری ہے اور جاری رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اللہ کے ساتھ عہد کیا ہے کہ اس ناجائز حکومت کا خاتمہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے،یہ تحریک آگے بڑھے گی اور اس نا جائز حکومت سے نجات دلائیں گے۔انہوں نے کہاکہ جب یہ نواز شریف سے کہتا تھا نواز شریف تلاشی دے نواز شرریف تلاشی نہیں دے رہا،اب وقت آ گیا ہے ان حکمرانوں کا حساب لیا جائے،الیکشن کمیشن اپنی ذمی داری پوری کرے،ایسے لوگ جو انڈیا اور اسرائیل سے فنڈز لیتے رہے ہیں،انہوں نے اس فنڈز کا حساب الیکشن کمیشن کو نہیں دیا،دوسروں کو چور کہنا آسان ہے لیکن خود اتنے بڑے چور،انکی بہنوں نے دبئی میں 70 عرب ڈالر کی جائیدادیں بنائی ہیں کہتے ہیں یہ جائیداد سلائی مشین سے بنائی ہے،اب یہ لوگ پھنس چکے ہیں،جب ہم اس ملین مارچ میں آ رہے تھے،جب خود دھرنا دے رہے تھے تو کہتے تجے پندرہ ہزار لوگ آ جائیں اور کہہ دین کہ گو عمران گو تو وہ حکومت چھوڑ دیں،آج پوری قوم یہ نعرہ لگا رہی ہے،ہم اس کو چھپنے نہیں دیں گے یہ خدا کی گرفت میں بھی ہے اور ہماری گرفت میں،آج ہر ایک ہڑتال پر ہے ملک افرا تفری کا شکار ہے،ملک میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ میں سلام پیش کرتا ہوں آزادی مارچ کے شرکا کو کہ انہوں نے ملک کو انارکی کی طرف نہیں جانے دیا،اتنا منظم اجتماع پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا۔انہوں نے کہاکہ پوری قوم ایک پیج پر ہے ساری قوم یہ کہہ رہی ہے کہ ہم جبر کو برداشت نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میڈیا نے چند دن دھرنا دکھایا اور پھر اب غائب ہو گیا،میڈیا پر پاپندیاں لگائی گئی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہماری قوم میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہودیوں کے ایجنٹوں کو شکست دے سکیں،

اگر پاکستا ن کو مستحکم رکھنا ہے کہ ملک کے وسائل پر یقین رکھو،ہم نے سلانہ اربوں روپے ڈبو دئیے ہیں کوئی بھی پاکستان پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بے شمار وسائل ہیں مگر ہم پاکستان کو ہمیشہ قرضوں پر چلایا،ہم نے ہمیشہ اس ملک کو آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کے قرضوں پر چلایا،ہمارا بجٹ آئی ایم ایف بنا رہا ہے،کہاں گئی ہماری آزادی ہم نے اس ملک کو اصل مقام دینا ہے،یہ لوگ کوئی تفریح کرنے یا مجرا کرنے نہیں آئے یہ لوگ قوم کی بہنوں اور بیٹیوں کے سر پر دوپٹہ رکھنے آئے ہیں،یہ ملک کو عزت دینا چاہتے ہیں،یہ فوج کو عزت دینا چاہتے ہیں،یہ تمام اداروں کو عزت دینا چاہتے ہیں،

یہ ملک کو بیرونی دباؤ سے بچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آپ سب آزاد کوگ ہیں ملک کی آزادی چاہتے ہیں،ہم غلام بنے ہیں،ڈوپ مرے وہ قوم جو عمران خان کی غلامی اختیار کریاپنے اپنے دائرہ اختار میں کام کرو ہم آپ کے ساتھ ہیں،ہمیں بیرونی طاقتوں کا غلام مت بناؤ،ہم مغرب سے کہنا چاہتے ہو دوستی کرو تو ہم آگے بڑھیں گے اگر غلامی چاہتے ہو تو ہم اسے نہیں مانیں گے،ہم نے ایک بار کہہ دیا یہ حکومت نا جائز ہے کسی کا باپ بھی ہم سے نہیں کہلوا سکتا کہ یہ جائز ہے۔انہوں نے کہاکہ تمام جماعتوں سے مشاورت جاری ہے،ہم دباؤ بڑھاتے چلے جائیں گے،ہم جو فیصلے کریں گے وی مزید دباؤ بڑھانے کیلئے کریں گے،ہم نے آئین اور قانون کی جنگ لڑنی ہے،ہمیں آئین اور قانون کی جنگ لڑنی ہے،ہماری جنگ جاری رہے گی ہم نے ہر طبقے کی جنگ لڑنی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…