ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

دھرنا پارٹی کے نوے فیصد معاملات طے پاگئے ،کب دھرنا ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا ،بڑے فیصلے ، حیرت انگیز انکشافات‎

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) دھرنا پارٹی کے نوے فیصد معاملات طے پاگئے ہیں جمعہ نماز پڑھانے کے بعددھرنا محفل برخواست کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔الیکشن میں فوج کی تعیناتی حالات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔وزیر اعظم کے استعفیٰ کا معاملہ الیکشن کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے گا۔اسیر ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر،دھرنا ختم ہونے پر کوئی تضحیک آمیز بیان نہ دینے سمیت دیگر ایشوز پر اتفاق ہو گیا۔

معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چوہدری برادران کے ساتھ بات چیت کافی حد تک فائنل ہو چکی ہے تاہم کچھ وزرا ء کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے عملی جامع نہ پہنایا جا سکا،گزشتہ شب مولانا فضل الرحمن نے چوہدری برادران سے انکے گھر ملاقات کی جس میں انہوں نے شکوہ کیا کہ ایک طرف تو صلح کے لیے بات کی جاتی ہے۔ دوسری جانب ایک وِزیر مسلسل تضحیک آمیز بیان دے رہے ہیں جوکہ ناقابل برداشت ہیں مولانا فضل الرحمن کا اشارہ وزیر ریلوے شیخ رشید کی طرف تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الہی نے شکایت وزیر اعظم سے کی جس کا نوٹس لیا گیا اور یقین دلایا گیا کہ آئندہ یہ شکایت نہیں ہو گی۔جے یو آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ نماز دھرنا کے ساتھ پڑھی جائے گی اور نوے فیصد امید ہے کہ دھرنا کے خاتمہ کا اعلان بھی کرنے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ اور دھرنے کو سات روز ہو چکے ہیں، بارش کے باعث سردی میں اضافہ ہو گیاہے لیکن اس کے بعد آزادی مارچ کے شرکاء ایچ نائن گراؤنڈ میں موجود ہیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12 ربیع الاول کو آزادی مارچ کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کر دیں گے، انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک مالیاتی بحران کا شکار ہے، نااہل حکمرانوں کے سپرد اگر اگلا بجٹ بھی کر دیا گیا تو ملک معاشی طور پر بیٹھ ہو جائے گا۔

اگر ایسا ہوا تو ہم دیوالیہ پن کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں 3 بجٹ پیش کرکے محصولات کا ہدف حاصل نہیں کر سکے، اس لیے ہم یہاں اپنے ملک کو بچانے آئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر اگلا بجٹ بھی یہ پیش کریں گے تو ہماری معیشت کا جہاز سمندر میں غرق ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان ان حکمرانوں کا بوجھ برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہے۔  انہوں نے بارش کے باوجود دھرنے شرکاء کی استقامت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ

گزشتہ رات مجھ پر بہت بھاری تھی لیکن یہ اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا، ہم اس امتحان کے بعد منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے۔ مولانا فضل الرحمان اس موقع پر کہا کہ آزادی مارچ قانونی اور آئینی لحاظ سے جائز مارچ ہے۔ وکلا برادری کی شرکت سے ہمیں تقویت ملی ہے مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس واپس لیا جائے۔ انہوں نے حکومتی دعوؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کروڑوں نوکریاں دور کی بات، حکومت نے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کردیا ہے، پچاس لاکھ گھر گرائے گئے اور ایک گھر بھی نیا نہیں بنایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…