ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان کے مارچ کا آغاز سے قبل ہی ’’ آدھا تیتر آدھا بٹیر ‘‘جیسا حال ، اہم انکشاف کر دیا گیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے مارچ کا آغاز سے قبل ہی ’’ آدھا تیتر آدھا بٹیر ‘‘جیسا حال ہو گیا ہے ، کرپشن کے ٹرائیکا کابلا جواز مارچ بد ترین شکست بن کر ان کے گلے کا طوق بن جائے گا ،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پیشگی تیاریاں کر لی ہیں او رکسی کو قانون ہاتھ میں

لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر ملاقات کیلئے آنے والے پارٹی رہنمائوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ہمایوں اختر خان نے کہا کہ آج جب پوری قوم بھارت کے خلاف یوم سیاہ منا رہی ہو گی ایسے میں نام نہاد لیڈر آخری ہچکیاں لیتی سیاست کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر سڑکوں پر ہوں گے ۔ مولانا فضل الرحمان بڑی توقعات کے ساتھ سندھ سے مارچ کا آغاز کر رہے ہیں لیکن جو کارکن پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی قیادت کی کال پر باہر نہیں نکلتا وہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست کا ایندھن کیوں بنے گا ۔ اس لئے مولانا فضل الرحمان کے مارچ کا آغاز سے قبل ہی حال ’’ آدھا تیتر آدھا بٹیر ‘‘ جیسا ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس مارچ سے کوئی خوف او رخطرہ نہیں بلکہ مارچ کرنے والوں کی اپنی سیاست کو خطرہ لا حق ہو گیا ہے اوروہ بھی اپنے اعلان پر پچھتا رہے ہیں ۔ بتایا جائے ڈیڑھ سال میں حکومت کا کرپشن کا کون سا کیس سامنے آیا ہے ،ایسے کون سے اقدامات کئے گئے ہیں جس کیلئے اپوزیشن مسل دکھا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے تحریک انصاف کی حکومت کو پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے اس لئے اپوزیشن جماعتیں اقتدار کی خواہش کی حسرت کو دل میں ہی دبا کر رکھیں ۔ آج ستائیس اکتوبر کو پوری قوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارت کے خلاف یوم سیاہ منائے گی اور انشا اللہ کشمیر کی تحریک اسی طرح زندہ رہے گی اور وہ دن دورنہیں جب بھارت کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…