جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

پی ایس 11، پیپلزپارٹی کی شکست، اپنے ہی اہم رہنما ذمہ دار نکلے،ابتدائی رپورٹ بلاول بھٹو کو پیش،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی) سندھ اسمبلی سے پی ایس گیارہ لاڑکانہ ٹو پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں جی ڈی اے کے ہاتھوں پیپلز پارٹی کے ہوم گراؤنڈ میں پیپلز پارٹی کو واضح مارجن سے شکست پر ابتدائی رپورٹ مقامی رہنماؤں کی جانب سے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو پیش کی گئی ہے، رپورٹ میں بیڈ گورننس سمیت مقامی و پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کے درمیان اختلافات ہی ضمنی الیکشن میں شکست کی بنیادی وجہ قرار دئے گئے ہیں،

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو ضمنی الیکشن میں ان کا امیدوار نامزد نہ کیے جانے پر نالاں تھے، صوبائی وزیر سہیل انور سیال اپنے بھائی طارق سیال کو امیدوار نامزد کرنے کے خواہشمند تھے، بلاول بھٹو زراری کی جانب سے ضمنی الیکشن سے پہلے لاڑکانہ میں ضلعی تنظیم کو بھی تحلیل کرتے ہوئے کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی گئی تھی لیکن 10 ہزار سے زائد ووٹ کی حامل شیخ برادری نے ایڈوائزی نا ملنے پر کوآرڈینیشن کمیٹی میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا تھا، میئر لاڑکانہ خیر محمد شیخ بھی شیخ برادری کے لیے الیکشن ٹکٹ چاہتے تھے، لیکن بلاول بھٹو کی مداخلت کے باوجود شیخ برادری نالاں ہی رہی، پارٹی اختلافات کے باعث پیپلز پارٹی ووٹرز دربدر رہتے تھے اور بنیادی مسائل حل نا ہونے پر ووٹرز نہایت نالاں تھے، لیاری کے بعد لاڑکانہ میں دوسری بار شکست پر عوام کی نظر میں پیپلزپارٹی کا بیانیہ اپنے گڑھ میں کمزور ہو چکا ہے اور اب چیئرمین پیپلز پارٹی کا انتہائی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، ضمنی الیکشن میں شکست پر ذمہ داروں کی نشاندہی کی ہدایات کی گئیں ہیں، تنظیمی عہدیداروں کو ہٹانے پر غور کیا جا رہا ہے، پیپلزپارٹی سندھ میں صوبائی، ضلعی سطح پر نئے چہروں کو سامنے لائے جانے کا امکان بھی ہے، 2018 کے جنرل الیکشن میں لیاری میں بلاول بھٹو کی شکست کے بعد سعید غنی نے پارٹی عہدے سے استعفی دیا تھا اور اب لاڑکانہ میں دوسری مرتبہ شکست پر پیپلزپارٹی سندھ کے صدر کا بھی مستعفی ہونے کا امکان ہے،

پی ایس11 پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا حلقہ بھی ہے، بتایا جا رہا ہے کہ پی ایس 11 ضمنی انتخاب کے نتائج نے پیپلز پارٹی کو پریشان کر رکھا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر نثار احمد ک?ڑو کے گھر کی پولنگ بھی پیپلزپارٹی ہار گئی، پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کے گھر کے قریب پرائمری اسکول نیو نظر محلہ کی پولنگ پیپلز پارٹی 91 ووٹوں سے ہاری ہے، پولنگ نمبر 53 پر جی ڈی اے کے معظم عباسی کو 316 جبکہ جمیل سومرو کو 225 ووٹ ملے،

نیو نظر محلہ کی پولنگ ہارنے پر صوبائی صدر نثار کھوڑو بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں، علاوہ ازیں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی کارکنان پر فخر ہے، ان کے امیدوار کو الیکشن پراسز سے روکا جاتا رہا، خواتین ووٹرز کے ووٹ میں تاخیری حربے استعمال کئے گئے جس کے باعث وہ نتائج کو الیکشن ٹربیونل سمیت سپریم کورٹ تک چیلنج کریں گے، تاہم لاڑکانہ کی عوام کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی 10 روز تک لاڑکانہ میں رہے اور الیکشن مہم چلائی لیکن عوام نے ان کے اثر رسوخ کو مسترد کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…