منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

ٹی وی نیوز 3.0 ڈیجیٹل دورمیں ٹی وی چینل چلانے کیلئے ایک رہنما کتاب ہے جسے ظفرصدیقی نے تحریرکیا ہے۔

datetime 17  اکتوبر‬‮  2019 |

ٹی وی نیوز 3.0 ڈیجیٹل دورمیں ٹی وی چینل چلانے کیلئے ایک رہنما کتاب ہے جسے ظفرصدیقی نے تحریرکیا ہے۔
پیپربیک/ قیمت 1295 پاکستانی روپے یا 12.99 پاؤنڈز/ بلیو میگپی بکس

کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی میڈیا ہاؤس ’’انڈیپنڈنٹ ٹی وی نیٹ ورک‘‘ کے سابق ایڈیٹر انچیف رچرڈ ٹیٹ کا کہنا ہے کہ کتاب نیوزچینلز کی انتہائی دلچسپ دنیا سے متعلق جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے جسے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا میں 24 گھنٹے خبروں کا آغازکرنے والوں میں سے ایک نے لکھا ۔

سابق ایگزیٹو ایڈیٹرسکائی نیوزکرس برکیٹ کے مطابق ’’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ڈیجیٹل انقلاب 24 گھنٹے چلنے والے نیوز چینلزکیلئے خطرہ ہے تواس کتاب کا مطالعہ کریں اوراپنے نکتہ نظر پر دوبارہ غور کریں‘‘۔

ڈیجیٹل انقلاب کے دورمیں ٹیلیویژن کی خبروں نے جنگوں سے لیکرشاہی شادیوں اورانسان کے چاند پر پہلا قدم رکھنے تک ہربڑے موقع پراہم کردارادا کیا ہے۔

اپنے آغازکے دور میں ٹی وی چینلز پربڑے کاروباری اورریاستی نشریاتی اداروں کی اجارہ داری تھی جو فیصلہ کرتے تھے کہ کون سی خبرکب اورکہاں نشرہوگی۔ 80 کی دہائی میں تکنیکی ترقی نے ٹیڈ ٹرنر اور روپرٹ مرڈوک جیسے کروڑ پتی کاروباری افراد کو سیٹلائٹ اور کیبل نیٹ ورک کے ذریعے دنیا بھرمیں 24 آورز نیوزچینلز کی جانب مائل کیا۔

آج کل کے ہنگامہ خیزدورمیں انٹرنیٹ اسٹریمنگ سے ٹیلویژن نیوزکی دنیا میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے جس سے چینل لانچ کرنے کے اخراجات میں بھی ڈرامائی طورپرکمی آئی، حکومت، ملٹی نیشنل کمپنیوں اوربڑے سرمایہ کاروں کی اجارہ داری کے بجائے اب کوئی بھی گلوبل نیوزچینل کا آغاز کرسکتا ہے۔ لیکن جب دنیا میں ہرطرف جعلی خبروں کی بھرمارہوتو کون سی خبرقابل بھروسہ ہوسکتی ہے؟۔

دنیا کے 3 براعظموں میں 4 نیوزچینلزچلانے والے ظفرصدیقی نے اپنی کتاب میں نئے دور کے گہرے اثرات اور اس حوالے سے ٹی وی چینلز کو درپیش چیلنجز تفصیل سے بیان کیے ہیں۔

نیوز 3.0 ایک میڈیا ہاؤس کے مالک کی ایسی منفرد کتاب ہے جوکاروباری شخصیات، میڈیا اورصحافت کے طلبا، اس انڈسٹری اور ہراس شخص کیلئے دلچسپی کا باعث ہوگی جو انسانیت پرٹیلویژن کے اثرات سے متعلق غوروفکرکرتا ہے۔ ڈیجیٹل دورمیں نیوزچینل لانچ کرنے کیلئے یہ کتاب مرحلہ وار رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

کتاب میں نیوزبزنس سے متعلق مختلف پہلو تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں جیسے کہ:
– ٹی وی چینل چلانے کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے موزوں ترین افراد کا انتخاب
– سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئےپرکشش بزنس پلان مرتب کرنا
– بہترین اسٹوریز اور پروگرام کیسے تیارکیے جائیں۔
– مصنف نے جوغلطیاں خود کیں ان سے بچنا ۔۔۔۔ اور
– کسی بھی ٹی وی چینل کی کامیابی کیلئے 3 ضروری صفات

کیرئیرکے دوران اکثروبیشتردنیا بھرکے مختلف ممالک کا سفرکرنے کے باعث مصنف کی ملاقات میڈیا انڈسٹری کی بڑی شخصیات سے رہی، کتاب میں اس حوالے سے مختلف واقعات واسباق کا بھی ذکر ہے۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بھی بیان کیےجو انتہائی دلچسپ ہیں۔ اس کے علاوہ دیانت داری کے ساتھ خودشناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کے باعث ہونے والے نقصانات اور ان کا ازالہ کرنے سے متعلق اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

ظفرصدیقی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں جنہوں نے 18 سال KPMG کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد بزنس شوز سے متعلق ایک پرائیویٹ پروڈکشن ہاؤس ’’ٹیلی بِز‘‘ کے آغاز سے میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھا۔ ٹیلی بِز کے بعد انہوں نے 18 ممالک میں سی این بی سی نیٹ ورک کا آغاز کیا۔ پاکستان کے معروف نیوزچینل سماء ٹی وی کا سہرا بھی ظفرصدیقی کے سرہے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…