اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے گوادر بندرگاہ سے افغان ٹرانزٹ تجارت کی اجازت دیدی

datetime 17  اکتوبر‬‮  2019 |

کوئٹہ (این این آئی) حکومت پاکستان نے گوادر بندرگاہ سے افغان ٹرانزٹ تجارت کی اجازت دے دی،گوادر بند گاہ پر آنے والے بلک کارگو کو عالمی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان روانہ کیا جائیگا،گوادر بند گاہ پر جہازوں کو انتظار کرنے کی بجائے جلد کلیئرنس بھی دی جائیگی حکومت پاکستان کی وزارت کامرس اینڈ ٹیکسٹائل کے ایک اعلامیے کے مطابق گوادر بندگاہ کے بین القوامی ٹرمینل پر آنے والے کارگو کی

افغان ٹرانز یٹ ٹریڈ کے ذریعے کلیئرنس اور ترسیل کے لئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ کسٹم کلیکٹریٹ گوادر کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق افغان تاجروں کوگوادر پورٹ کے ذریعہ منتقلی اور ٹرانزٹ کی سہولت حاصل ہوگی جس سے دونوں گوادر میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا افغان ٹرانزٹ ٹرید کے ذریعے جانے والے سامان کو کلیئرنس دینے کے لئے آسانیاں بھی پیداکی جائیں گی، جائے گا۔ تاجراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر بندرگاہ کے ذریعے افغان ٹرانزٹ کا آغاز گوادر پورٹ کو مکمل طور پر آپریشنل کرنے میں ایک درست فیصلہ ہے سابقہ ڈائریکٹر جنرل (ڈوپلمنٹ)گواد ر پورٹ اتھارٹی منیر جان کے مطابق گوادر پورٹ کے ذریعے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت مہیا کرنا پاکستان اور افغانستان کے تاجروں کا دیرنہ مطالبہ تھا تاہم کسٹمز کلیئرنس کے لئے تیز رفتا انٹرنیٹ، انسداد منشیات معائنہ، شمالی بلوچستان کوگوادر سے منسلک کرنے والی سڑکوں کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ التواء کا شکار رہا لیکن کوئٹہ کے راستے چمن بارڈر کو گوادر سے منسلک کرنے سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی سے یہ مطالبہ اب تکمیل ہورہا ہے،گوادر میں کراچی اور پورٹ قاسم کے برعکس بندرگاہ پر جہاز پر آنے والے جہازوں کو اپنی باری کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑیگا جس سے تاجروں کو سہولت فراہم ہوگی، واضح رہے کہ پچھلے مہینے پاکستان نے افغان تاجروں کی سہولت کے لئے طور خم بارڈر کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کے بھی آغاز کیا ہے، سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ اس فیصلے کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…