جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

جواداحمد کی پاکستان میں شاہی جوڑے کو ملنے والے پروٹوکول اور وزیراعظم پر شدید تنقید، ان لوگوں نے ہی ہمیں غلام بنایا، اتنی عزت بھی نہ دیں کہ ہم خود کو چھوٹا محسوس کرنے لگیں

datetime 16  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) معروف گلوکار جواد احمد نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ برطانیہ سے شاہی جوڑا پاکستان آیا ہوا ہے، میں بہت عجیب محسوس کر رہا ہوں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر لوگ ان کی تصویریں ادھر سے ادھر بھیج رہے ہیں اور خوش ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ لوگ کون ہیں، میں ان کی بھی عزت کرتا ہوں میں سب کی عزت کرتا ہوں، تمام انسانوں کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ شاہی خاندان وہی خاندان ہے

جس نے ہمارے اس خطے کو اپنا تختہ مشق بنایا ہمارا خون پسینہ نچوڑ لیا، ہم غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں چلے گئے صرف اس خاندان کی وجہ سے انہوں نے اپنی مملکتیں بنائیں، ان کی ٹیکسٹائل انڈسٹریوں کو ہم نے اپنے خون سے تعمیر کیا اور یہ لوگ ہم پر حکومت کرتے رہے اور ہم پر بہت زیادہ مظالم کئے، یہ خاندان اس میں ملوث تھا، جواد احمد نے کہا کہ میں نہیں کہتا کہ آپ ان لوگوں کو عزت نہ دیں آپ تمام لوگوں کو عزت دیں اور ان کو بھی دیں لیکن اتنی عزت نہ دیں کہ آپ خود چھوٹے لگنے شروع ہو جائیں، جواد احمد نے کہاکہ یہ جو عمران خان ہیں یہ تو ویسے ہی مرعوب ہیں ان لوگوں سے، شاہی خاندان سے ان کے تعلقات رہے ہیں، ان کا پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ اگر ان کی نجی زندگی بھی دیکھیں تو اس کا تعلق برطانیہ کے ساتھ ہے آج بھی ان کے بچے وہاں رہتے ہیں، عمران خان شاہی خاندان سے تعلقات کے بارے بہت شوق سے بتاتے ہیں، لیڈی ڈیانا بھی شوکت خانم ہسپتال کے لئے آئی تھیں، جواد احمد نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کوئی بادشاہ ہیں خود بادشاہوں کے ساتھ پھر کر بڑا ہی اچھا محسوس کرتے ہیں اور میں ایک نیشنلسٹ ہوں میں بین الاقوامی پسند ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے لوگوں کو خوشحالی ملنی چاہیے، تمام مذاہب، فرقوں اور لوگوں کو خوشحالی ملنی چاہیے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام لوگ خوش و خوشحال رہیں، اس قوم کا کمپلیکس جو انگلستان اور شاہی خاندان کے ساتھ ہے اس کو آخر کہاں تک لے کر جائیں گے۔ یہ ہمارے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…