جمعیت علمائے اسلام کے باوردی رضاکاروں کی دریائے سندہ میں ریہرسل،اگر زمینی راستہ بند کردیئے گئے تو پھر کیا کرینگے؟ حیرت انگیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2019  |  19:26

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام کے باوردی رضاکاروں کی دریائے سندہ میں ریہرسل، اگر زمینی راستہ بند کردیئے گئے تو کشتیوں کے ذریعہ دریائے سندہ کے راستے اٹک پل پہنچنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کے قافلے ہر صوبے سے کم از کم دو علیحدہ علیحدہ راستوں سے نکلیں گے۔ذرائع کے مطابق بلوچستان کے اضلاع کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا، سندھ کے ساتھ اور قریب والے قافلے کراچی، حیدر آباد، سکھر کے راستوں سے آئینگے۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان کا دوسرا بڑا قافلہ جنوبی پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان کے راستوں سے


قومی شاہراہ پر آئیگا۔ذرائع نے بتایاکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی وجہ سے جے یو آئی قافلوں کو کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوگا۔ذرائع کے مطابق کراچی، حیدر آباد، سکھر سمیت اندرون سندھ کے قافلے گھوٹکی سے صادق آباد، رحیم یار خان سے داخل ہونگے، خیبر پختونخوا کے قافلے تین اطراف سے اسلام آباد کی جانب گامزن ہونگے۔ ذرائع کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے ذریعے وزیرستان کے قافلے میانوالی تلہ گنگ کی راہ لیں گے،پارہ چنار، بنوں، کوہاٹ کے قافلے ضلع اٹک کی تحصیل جند، فتح جنگ کو کراس کرتے ہوئے اسلام آباد آئینگے۔ذرائع  نے بتایاکہ پشاور، ہزارہ ڈویژن، جی بی اور خیبر کی جانب سے آنے والے قافلے موٹروے اور جی ٹی روڈ کے ذریعے ترنول آئینگے۔ ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کچھ قافلے میانوالی، فتح جنگ میں بھی اکٹھے ہونگے۔ ذرائع نے بتایاکہ وسطی پنجاب کے قافلے بھی دو حصوں میں موٹروے اور جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد پہنچیں گے، اٹک، جہلم، چکوال اور راولپنڈی ڈویڑن کے ذمہ داران کے ذمہ میزبانی کے فرائض بھی ہونگے۔ ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن کے قافلے 31 اکتوبر کو ہی اسلام آباد کی جانب آئینگے۔ ذرائع کے مطابق قافلوں کو چار روز کا وقت تھکاوٹ کے احساس کو دور کرنے کے رکھا گیا، قافلوں کے روٹس پر عارضی رہائش و کھانے پینے کا بندوبست بھی ہوگا۔ ذرائع  نے بتایاکہ ہر صوبائی قافلے کے ہمراہ کم از کم 5 ہزار رضا کار بھی ہونگے،مرکز کی جانب سے صوبوں سے چالیس ہزار رضا کار بھی طلب کئے گئے، ذرائع کے مطابق  جے یو آئی نے تقریبا 80 ہزار کے قریب رضا کار وردیاں سلوائی ہیں، ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان مختلف قافلوں سے مناسب مقامات پر خطاب بھی کرینگے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا پہلا خطاب سکھر میں متوقع، جی ٹی روڈ پر بھی مولانا کا خطاب متوقع  ہے،27 سے 31 اکتوبر کے درمیان مولانا فضل الرحمان  5 سے 6 جگہوں پر خطاب کرینگے، ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے خطابات کن جگہوں پر ہونگے فی الوقت اسے مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا ہے۔مرکزی سالار انجینئر عبدالرزاق عابد لاکہو کی قیادت میں کارواں حیدرآباد سے روانہ ہوگئے۔

موضوعات:

loading...