مظفرآباد(این این آئی) جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کاجسکول میں دھرنا ،جسکول سے آگے پچاس ہزار سے زائد آباد ی محصور ہو کر رہی گئی غذائی قلت کاسامنا مریضوں سمیت بزرگ شہریوں کو پنشن کی حصولی کے لیے بھی مشکلات ،سکول بند، انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے عوامی مسائل میں روز بروز اضافے کا باعث بن رہی ہے ، مقامی افراد اور تاجروں کا موقف ہے کہ ہم دھرنے کے خلاف نہیں ہیں
لیکن ایک طرف سے ٹریفک کو کھولا جائے تاکہ پچاس ہزار آبادی جو اس وقت شدید ازیت میں مبتلا ہے اس کا ازالہ ہوسکے، مقامی افراد پنے روز مرہ کے معاملات نمٹا سکیں،تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم ویلی جسکول دھرنے مقامی انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے چکوٹھی ،توفرآباد، درنگ، سربنگ، کھلانہ، ناگنی، موڑہصادق، کھائی گراں سمیت مختلف گائوں کی پچاس ہزارسے زائد آبادی غذائی قلت سے دوچار ہو گئی ہے، علاقہ میں اشیاء خوردونوش سمیت سبزیاں پھل فروٹ، اور ادویات سمیت انسانی جانیں داو پر لگ چکی ہیں جبکہ مریضوں کو ہسپتال میں منتقل کرنا مشکل ہو گیا ہے مقامی افراد کا کہنا ہے، ہم لوگ دھرنے کے خلاف نہیں ہیں لیکن انتظامیہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرے اور ایک طرف سے ٹریفک کو کھولا جائے ، تا کہ ہزاروں افراد اپنے روزمرہ کے کام کر سکیں ، مریضوں کو باآسانی ہسپتال میں لایا جاسکے، جبکہ دوسری طرف دھرنے کی جگہ سے ٹریفک کے لیے راستہ موجود ہے تاہم اتظامیہ کی جانب سے جسکول پل سے پہلے لگائے گئے کنٹینرز اور خار دار تاروں کی وجہ سے ہرقسم کی ٹریفک کے لیے شاہرہ سرینگر بند ہے۔



















































