جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

یہ حکومت نہ ہم سے لڑ سکتی ہے نہ ہی بھارت سے لڑ سکتی ہے، مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ کا اہم مطالبہ مان لیا

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آزادی مارچ 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہو گا، 27 اکتوبر کو کشمیریوں کے ساتھ یوم سیاہ منائیں گے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 27 اکتوبر کو ملک بھر میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے یوم سیاہ منائیں گے، اس روز ریلیاں نکالی جائیں گی، یوم سیاہ کے بعد کارکان اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں سے

کارکن 27 اکتوبر کو ہی اسلام آباد کا سفر شروع کر دیں گے، جبکہ اسلام آباد کے قریبی علاقوں کے کارکن یوم سیاہ منا کر واپس چلے جائیں گے جس کے بعد وہ دوبارہ 31 اکتوبر کو اسلام آباد آئیں گے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت صرف دھمکیاں دے رہی ہے، یہ حکومت نہ ہم سے لڑ سکتی ہے نہ ہی بھارت سے لڑ سکتی ہے، جبکہ ہر صوبے سے 10 ہزار رضا کار لائے جائیں گے۔واضح رہے کہ چند روز قبل پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت حکومت مخالف آزادی مارچ کا آغاز 27 اکتوبر سے کرے گی۔انہوں نے کہاکہ اس حکومت نے مقبوضہ کشمیر کا سودا کر دیا ہے، 27 اکتوبر کو ہم کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کریں گے اور اس کے لیے مظاہروں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب بھی مارچ کریں گے جس کے لیے پورے ملک سے قافلے چلیں گے اور اسلام آباد پہنچیں گے، جو اس حکومت کو چلتا کریں گے۔مولانا فضل الرحمٰن کے اس اعلان سے ایک روز قبل مسلم لیگ (ن) کے وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی مارچ کی تاریخ میں توسیع کی تجویز دی تھی۔اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا تھا کہ مولانا کے سامنے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں آنے والی تجاویز رکھی ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) پہلے ہی آزادی مارچ کے حوالے سے اتفاق کرچکی ہے، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں اتفاق رائے رکھتی ہیں کہ موجودہ حکومت ایک سال میں ناکام ہو چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…