منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

نئے پاکستان کے رنگ نرالے، وفاقی دارلحکومت اسلام آبادمیں جرائم کی شرح تین سو گنا بڑھ گئی،شہریوں نے سرپکڑ لئے،افسوسناک انکشافات

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارلحکومت میں جرائم کی شرح تین سو گنا بڑھ گئی،شہریوں نے سرپکڑ لئے،پولیس کے افسران نے کبوتر کی طرح آنکھیں بندکرلیں، نان پروفیشنل پولیس افسران و اہلکاروں کی تھانوں میں تعیناتی جرائم میں اضافہ کی بڑی وجہ ہے ۔آئی جی اور وزیر داخلہ دونوں نے وفاق کو بے یارومدد گار چھوڑ دیا ہے۔ایس ایچ اوز لاکھوں روپے دیکر تھانوں میں تعینات ہیں،

اصلاح کے خواب پورے ہونے ناممکنات میں شامل ہیں،قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی رپورٹس کو وزیر داخلہ نے پڑھنا تک گوارہ نہ کیا،تھانوں میں شہریوں کو دھتکارہ جانے لگا ہے۔معلومات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی تعیناتی کے بعد وفاقی پولیس گہری نیند میں خراٹے مارنا شروع ہوگئی،تھانے مادر پدر ایک بار پتھر کے دور میں چلے گئے،دوسری جانب وفاقی پولیس کے اعلیٰ عہدہ پر فائز آئی جی بھی وزیر داخلہ کی جانب سے باز پرس نہ ہونے پر مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے،گزشتہ ماہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی تو کہ جو پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران شہر اقتدار میں اپنی مدت پوری کر چکیں ہیں انہیں دوسرے صوبوں میں فوری تعینات کیا جائے تاہم آئی جی اسلام آباد نے وزیر اعظم آفس سے سفارش کرواتے ہوئے تبدیلیاں رکوا لیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی تبدیلیاں دوسرے دن ہی کر دی گئیں چند دن بعد دوباہ وزیر داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے افسران کو اسلام آباد سے فوری تبدیل کرنے کا حکم دیا تاہم حیرت انگیز طور پر وزیر داخلہ کو پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اور تا حال تبادلے نہ ہو سکے۔جس کی وجہ سے قبضہ مافیا کے ایک بار پھر وارے نیارے ہو گئے ہیں دوسری طرف مقامی سیاسی قیادت کو بھی عام شہریوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اورہر کام سفارش اور پرچی کے بل بوتے ہونے لگا ہے۔

عام شہریوں کے مطابق کہ وفاقی پولیس کے رینکر افسران اور اہلکاروں کو جب تک ضلع بد ر نہ کیا جائے وفاق سے جرائم کی شرح کسی صورت کم نہیں ہو سکتی ہے،سی آئی اے،کرائم سرکل،سپیشل برانچ اور تھانے کے وہی اہلکار و افسران جو کہ بیس بیس سال سے تعینات ہیں اور انہوں نے مضبوط ترین ایک نیٹ ورک بنا رکھا ہے اور اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے چند سال کے لیے آنیوالے پولیس افسران کے بس کی بات نہیں ہے۔دوسری جانب انسپکٹرز کو لائن حاضر اور

دوسری ڈیوٹیز پر تعینات کرکے سب انسپکٹرز کو ایس ایچ او بنا کر شہریوں کو مڈل میٹرک اور ایف اے پاس پولیس کے ہتھے چڑھا دیا گیا،متعدد بار دیکھا گیا ہے کہ میٹرک پاس ایس ایچ او کے سامنے ایم فل افراد زمین پر بیٹھ کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جو کہ انصاف اور عدل کے اصولوں کے خلاف ہے۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں پولیس کے بولٹ نٹ ٹائٹ کیے گئے تھے مگر انکے جانے کے بعد ڈھیلے ہوئے تو کوئی بھی پولیس آفیسر یا

وزیرداخلہ ایسا نہ آ سکا جو کہ عام شہریوں کی آنکھ سے تھانوں کی کارگردگی کو دیکھتا۔بنی گالہ،کورال،لوہی بھیر،سہالہ،شہزاد ٹاؤن،گولڑہ،ترنول،نون،نیلور،بھارہ کہو و دیگر تھانوں میں ایس ایچ او ز کی تعیناتی ہوتے ہی وہ اپنے اپنے ایریاز کی ہاؤسنگ سوسائیٹزکو مانیٹر کرتے ہیں تاکہ میگا منی لیکر پھر وہ چلتے بنے۔وزارت داخلہ اگر شہریوں کی سہولیات سے مخلص ہے تو تمام ایس ایچ اوز اور سب انسپکٹرز رینک تک ملازمین کے اثاثہ جات چیک کرلیں، 80ہزار روپے کا ملازم اسلام آباد میں ارب پتی بن چکا ہے اور درجنوں پلاٹ اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے نام کروا رکھے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…