لاڑکانہ میں ڈاکٹرنمرتا کی پراسرار ہلاکت،طالبہ نے  اپنانفسیاتی علاج کیوں کرایا؟ تفتیشی حکام کے چونکا دینے والے انکشافات

  اتوار‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2019  |  21:29

لاڑکانہ(این این آئی)لاڑکانہ میں نمرتا کی پراسرار ہلاکت کے واقعہ میں نیا موڑ آگیا، کلاس فیلو مہران ابڑو نے شادی کا وعدہ کیا لیکن بعد میں وہ مکر گیا،طالبہ ایک ماہ سے پریشان تھی،نفسیاتی علاج بھی کرایا، نمرتا چار سال سے مہران اور اس کے خاندان کا خرچہ چلاتی رہی،دوسری جانب ڈاکٹر نمرتا اور اس کے حراست میں لیے گئے کلاس فیلو مہران ابڑو کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتاکی پراسرار موت کے واقعہ میں نیا موڑ آگیا۔تفتیشی حکام کے مطابق نمرتا کیس میں گرفتار ملزم


مہران ابڑونے بتایاکہ میں اور نمرتا ایک دوسرے کی محبت میں گرفتارتھے اور دونوں شادی کرنا چاہتے تھے، نمرتا کماری اور مہران ابڑو کی شادی میں مہران ابڑو کی والدہ افروز رکاوٹ بنی ہوئی تھی،والدہ افروز نے ایک ماہ قبل نمرتا کماری کو رشتے سے انکار کردیا تھا۔رشتے سے انکار کے بعد نمرتا کماری ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی اور علاج کرانے لگی۔ مہران ابڑو اور نمرتا کی دوستی ڈینٹل کالج میں پہلے سال ہی 2015 میں ہوئی جو پیار میں بدل گئی، نمرتا کو مہران کے گھر والے شادی کا آسرہ دیتے رہے اور آخر میں مہران کی والدہ افروز نے جواب دے دیا۔ذرائع کے مطابق مہران کے والد عبدالحفیظ(ر)بینک ملازم اور والدہ افروز ٹیچر ہیں۔چار سال تک نمرتا مہران اور اسکی فیملی کا خرچہ چلاتی رہی، نمرتا کا اے ٹی ایم کارڈ مہران کے استعمال میں تھا اور مہران کی بہنیں باکھ اور کومل کو شاپنگ بھی نمرتا کراتی تھی۔ذرائع کے مطابق ساری صورتحال سے نمرتا کے اہل خانہ واقف تھے۔15 فروری کو مہران اور اس کے گھر والے نمرتا کے بھائی کی کراچی میں شادی میں بھی شریک ہوئے تھے، نمرتا شادی سے جواب ملنے پر ایک ماہ سے پریشان تھیں۔ذرائع کے مطابق پریشانی کی وجہ سے نمرتا نے نفسیاتی ڈاکٹر سے بھی رجوع کیا اور ادویات استعمال کرنا شروع کیا تھا، سات روز گزرنے کے باوجود پولیس معاملے کے اصل حقائق سامنے نہ لا سکی۔دوسری جانب  ڈاکٹر نمرتا اور اس کے حراست میں لیے گئے کلاس فیلو مہران ابڑو کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آ گئی ہے۔اس سی سی ٹی فوٹیج میں دونوں پارک میں باتیں کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں، منظر عام پر آنے والی فوٹیج واقعے سے دو روز قبل 14 ستمبر کی ہے،7روز گزرنے کے باوجود لواحقین نے مقدمہ درج کرانے کیلئے لاڑکانہ کا رخ نہیں کیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق حراست میں لئے گئے مہران ابڑو اور علی شان میمن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔دوسری طرف پولیس نے نمرتا کیس کی تفتیش کو حتمی شکل دے دی ہے، تفتیشی حکام کے مطابق ورثا چاہئیں تو مقدمہ درج کروا سکتے ہیں، زیر حراست دونوں طالبعلموں نے نمرتا سے دوستی کی تصدیق کی ہے، موت سے قبل نمرتا کا دوست مہران ابڑو سے جھگڑا چل رہا تھا۔ جوڈیشل انکوائری میں کیس کی مکمل تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق طالبہ نمرتا کے دو کلاس فیلو سمیت32 افراد کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں، پولیس وسیم میمن نامی شخص کی دلچسپی پر بھی تحقیق کررہی ہے۔  نمرتا کماری کا قتل یا خودکشی ساتویں روز بھی پولیس معلوم نہ کرسکی، نمرتا کماری واقعہ کا کیس بھی دائر نہ ہوسکا، نمرتا کماری کیس کی جوڈیشنل انکوائری بھی شروع نہ ہوسکی،ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ کی درخواست پر بھی نمرتا کماری کے ورثا لاڑکانہ نہ آسکے، نمرتا کماری کا کیس ورثا نہ دائر کرائیں گے تو مجبورا پولیس کی مدعیت میں کیس دائر ہوگا۔ میرپورخاص میں اقلیتی برادری  نے کہاکہ نمرتا کے خون کے ساتھ انصاف کیا جائے،میرپورخاص میں کاروبار بند کردیا، میرپورخاص، عمرکوٹ روڈ، صوفی موڑ موڑ پر احتجاج ٹائر نذر آتش کرکے روڈ بلاک کردیا گیا، ٹریفک معطل،مشتعل افراد کی جانب سے نمرتا کیس میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ گھوٹکی، قادرپور،اور خان پورمہر میں احتجاجی مظاہرے، نعریبازی کی گئی، خان پورمہر میں جسقم سول سوسائٹی اور ہندو پنچائت کی سربراہی میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے کہاکہ کالج کی وی سی انیلا کو معاملے میں شاملِ تفتیش کیا جائے،وائس چانسلر انیلا بار بار کیوں کہتے ہے کہ خودکشی ہے،اگر کالجوں میں ایسے واقعے رونما ہوتے رہے تو ہم اپنی بچیوں کیسے تعلیم دلا سکیں گے؟ نمرتا چندانی ایک بہادر اور سوشل ورکر قسم کی لڑکی تھی،وہ خود کشی نہیں کر سکتی ہے۔

موضوعات:

loading...