بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

دبئی میں عشرت العباد سے ملاقات کیوں کی؟سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس لیاقت علی خان سے کیا تعلق تھا؟میئر کراچی وسیم اختر کھل کر بول پڑے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ دبئی میں سابق گورنر سندھ عشرت العباد خان سے اتفاقیہ ملاقات ہوئی انہوں نے کراچی کی صورتحال پر سوال کئے جس پر میں نے ان کو کراچی کے مسائل کے بارے میں بتایا۔سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس لیاقت علی خان کا ہمارا مشیر ہونے کا تاثر غلط ہے ان کا کبھی ایسا تقرر نہیں ہوا۔ ہارٹیکلچر میں ان کے تجربہ سے پارکوں کو بہتر کرنے کے لئے کبھی کبھی مشورہ لیا جاتا تھا۔

صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے ملاقات کی میں نے ان کو بتایا کہ کراچی کی ترقی اور صفائی کے لئے صوبائی اور وفاقی حکومت سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا کراچی میں 60فیصد لینڈ کنٹرول وفاقی حکومت اور 30فیصد صوبائی حکومت کا ہے ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فریئر ہال میں کلچرل پروگرام کے دورے کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دبئی میں سابق گورنر کے ساتھ اتفاقیہ ملاقات ہوئی تھی وہ اپنے صاحبزادے کے ہمراہ تھے اچانک ملاقات ہوئی وہ کراچی کے بارے میں پوچھ رہے تھے ان کا کراچی میں تجربہ ہے میں نے ان کو بتایا کہ موجودہ قانون میں رہتے ہوئے میں کیا کر سکتا ہوں، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ سابق گورنر سیاست میں متحرک ہوں گے وہ تو بہت آرام سے ہیں وہاں مگر چونکہ ان کا طویل تجربہ ہے اور شہر کے بارے میں سوچتے ہیں اور اسی حوالے سے انہوں نے کچھ مشورے بھی دئیے مگر میں نے ان کو بتایا کہ میرے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس ہمارے مشیر نہیں تھے نہ ان کا اس حیثیت سے تقرر کیا گیا تھا البتہ ان کے تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پارکوں کو بہتر بنانے کے لئے ان سے مشورہ کیا جاتا تھا۔ باغ ابن قاسم سمیت کسی پارک کا ماسٹر پلان نہیں اس لئے ان سے پارکوں کے انفراسٹرکچر کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں وہ باقاعدہ طور پر ہمارے مشیر نہیں تھے

ان کی کوئی ایسی تقرری نہیں ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ صاحب آئے تھے ان کا شکریہ ان سے مختلف امور پر بات ہوئی میں نے ان سے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں 60 فیصد لینڈ کنٹرول وفاقی حکومت اور 30 فیصد صوبائی حکومت کا ہے۔کے ایم سی کے پاس صرف 10 فیصد لینڈ کنٹرول ہے،تینوں حکومتوں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…