اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

دبئی میں عشرت العباد سے ملاقات کیوں کی؟سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس لیاقت علی خان سے کیا تعلق تھا؟میئر کراچی وسیم اختر کھل کر بول پڑے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ دبئی میں سابق گورنر سندھ عشرت العباد خان سے اتفاقیہ ملاقات ہوئی انہوں نے کراچی کی صورتحال پر سوال کئے جس پر میں نے ان کو کراچی کے مسائل کے بارے میں بتایا۔سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس لیاقت علی خان کا ہمارا مشیر ہونے کا تاثر غلط ہے ان کا کبھی ایسا تقرر نہیں ہوا۔ ہارٹیکلچر میں ان کے تجربہ سے پارکوں کو بہتر کرنے کے لئے کبھی کبھی مشورہ لیا جاتا تھا۔

صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے ملاقات کی میں نے ان کو بتایا کہ کراچی کی ترقی اور صفائی کے لئے صوبائی اور وفاقی حکومت سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا کراچی میں 60فیصد لینڈ کنٹرول وفاقی حکومت اور 30فیصد صوبائی حکومت کا ہے ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فریئر ہال میں کلچرل پروگرام کے دورے کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دبئی میں سابق گورنر کے ساتھ اتفاقیہ ملاقات ہوئی تھی وہ اپنے صاحبزادے کے ہمراہ تھے اچانک ملاقات ہوئی وہ کراچی کے بارے میں پوچھ رہے تھے ان کا کراچی میں تجربہ ہے میں نے ان کو بتایا کہ موجودہ قانون میں رہتے ہوئے میں کیا کر سکتا ہوں، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ سابق گورنر سیاست میں متحرک ہوں گے وہ تو بہت آرام سے ہیں وہاں مگر چونکہ ان کا طویل تجربہ ہے اور شہر کے بارے میں سوچتے ہیں اور اسی حوالے سے انہوں نے کچھ مشورے بھی دئیے مگر میں نے ان کو بتایا کہ میرے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس ہمارے مشیر نہیں تھے نہ ان کا اس حیثیت سے تقرر کیا گیا تھا البتہ ان کے تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پارکوں کو بہتر بنانے کے لئے ان سے مشورہ کیا جاتا تھا۔ باغ ابن قاسم سمیت کسی پارک کا ماسٹر پلان نہیں اس لئے ان سے پارکوں کے انفراسٹرکچر کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں وہ باقاعدہ طور پر ہمارے مشیر نہیں تھے

ان کی کوئی ایسی تقرری نہیں ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ صاحب آئے تھے ان کا شکریہ ان سے مختلف امور پر بات ہوئی میں نے ان سے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں 60 فیصد لینڈ کنٹرول وفاقی حکومت اور 30 فیصد صوبائی حکومت کا ہے۔کے ایم سی کے پاس صرف 10 فیصد لینڈ کنٹرول ہے،تینوں حکومتوں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…