ملک میں زرعی ایمرجنسی کے تحت 300ارب روپے کے نئے پروگرام کا آغاز،جہانگیرترین نے بڑا اعلان کردیا

  جمعرات‬‮ 5 ستمبر‬‮ 2019  |  19:22

پشاور(این این آئی)زرعی ایمرجنسی پروگرام پاکستان کے فوکل پرسن اورپی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ ملک میں زرعی ایمرجنسی کے تحت 300ارب روپے کانیاپروگرام شروع کردیاہے، دو ارب روپے سوات میں فشریز کی پیداواربڑھانے پر خرچ کررہے ہیں، جدید ٹراؤٹ ہچریاں قائم کررہے ہیں پانچ سال کی مدت کے بعد زمیندار خودکفیل ہونگے،ٹراؤٹ مچھلیوں کی افزائش، لائیوسٹاک اورزرعی ترقی کیلئے پی ٹی آئی کی مرکزی اورصوبائی حکومتیں بھرپور اقدامات اٹھارہی ہیں۔ وہ گزشتہ روز سوات مدین میں دوارب روپے کی لاگت سے چارسو ہچری فارم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس


سے قبل وفاقی وزیر تحفظ خوراک اینڈریسرچ صاحبزادہ محمودسلطان صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیرزراعت، لائیوسٹاک وفشریز محب اللہ خان اور ایم پی اے میاں شرافت علی نے بھی خطاب کیاجبکہ اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی و ڈیڈک چیئر مین سوات فضل حکیم خان، ایم پی اے میاں شرافت علی سیکرٹری ایگریکلچر لائیو سٹاک محمد اسرار خان، ڈی جی لائیو سٹاک و فوکل پرسن محکمہ ذراعت ڈاکٹر شیر محمدخان، ڈی جی فشریز حسرو کلیم، ڈی جی واٹر مینجمنٹ خورشید آفریدی، محکمہ لائیو سٹاک و فشریزکے دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ محب اللہ خان نے اس موقع پر خطاب میں جہانگیر ترین کو خوش آمدید کہااوربتایا کہ پی ٹی آئی حقیقی معنوں میں ملک کو زرعی ملک بنانے کے لئے کوشاں ہے پانچ سالوں میں 72ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں وزیراعظم عمران خان اورجہانگیرترین کی خصوصی دلچسپی کے باعث یہاں پر 400فِش فارم قائم ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ سوات میں پہلے 100 میٹرک ٹن ٹراؤٹ فش کی پیداوار تھی، اوراب یہ پیداوار چارسو میٹرک ٹن تک پہنچ چکی ہے جس کومزیدبڑھائینگے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیرترین نے کہا کہ سوات میں مچھلیوں کے ہچریوں کے قیام سے ہزاروں افرادکوروزگار ملے گا۔ جبکہ ٹراؤٹ مچھلیوں کی پیداوارکو1400 میٹرک ٹن تک پہنچائینگے جس سے زمیندار بھی مستفیدہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں لائیوسٹاک اورصاف پانی کے دیگر منصوبے بھی شروع کررہے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎