منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

دفاتر میں پینے کے پانی کا خرچہ بچانے کیلئے سرکاری منرل واٹر تیار،وزیراعظم آفس، جی ایچ کیو اور پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی استعمال کیاجائیگا

datetime 31  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) سرکاری دفاتر میں پینے کے پانی کا خرچہ بچانے کے لیے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے سرکاری منرل واٹر تیار کرلیا ہے۔  پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز نے“سیف ڈرنکنگ واٹر”کے نام سے منرل واٹر کی 500 ملی لیٹر کی بوتلیں تیار کرلی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سرکاری دفاتر میں پینے کے پانی کا خرچہ بچانے کے لیے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے سرکاری منرل واٹر تیار کرلیا ہے۔  پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز نے“سیف ڈرنکنگ واٹر”کے نام سے منرل واٹر

کی 500 ملی لیٹر کی بوتلیں تیار کرلی ہیں۔سرکاری منرل واٹر ابتدائی طور پر وزیراعظم آفس، جی ایچ کیو اور پارلیمنٹ ہاؤس میں استعمال کے لیے بھیجا جائے گا۔ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم  عمران خان کی کفایت شعاری مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلی معیار کا سستا منرل واٹر متعارف کرایا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری منرل واٹر پر صرف ایک روپے فی لیٹر خرچہ آئے گا،مستقبل میں تمام سرکاری اداروں میں سرکاری منرل واٹر کا استعمال متعارف کرایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…