منگل‬‮ ، 14 اپریل‬‮ 2026 

”سی پیک منصوبہ بالادست طبقہ کا سودا تھا“نوابزادہ لشکری رئیسانی نے سنگین الزامات عائد کردیئے،بڑا مطالبہ کردیا

datetime 20  اگست‬‮  2019 |

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ بالادست طبقہ کا سودا تھا منصوبے سے متعلق ہونے والے معاہدوں کو پارلیمنٹ میں لایا جائے۔ بلوچستان میں پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونے کی وجہ حقیقی سیاسی قیادت کیخلاف ہونے والی سازشیں ہیں۔ بالادست پارلیمنٹ اور حقیقی جمہوری نظام ہی ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔

منگل کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو میں نوابزادہ لشکری رئیسانی نے مزید کہا کہ سی پیک منصوبہ جنرل مشرف اور انکے حواریوں نے بلوچستان کے لوگوں پر مسلط کیا کیونکہ پاکستان میں لوگوں کے اجتماعی مفادات کی بجائے بالادست طبقہ کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے اس لیے منصوبے کے نام پر عوام کو سبز باغ دکھائے گئے۔ دراصل سی پیک بالادست طبقہ کا سودا تھا جس کے ذریعے کچھ لوگ اپنا حصہ وصول کرکے بیرون ملک چلے گئے کچھ اب تک اپنا حصہ وصول کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ کا سرچشمہ گوادر ہے جہاں منصوبے کے تحت ایک روپے کا بھی کام نہیں ہوا نہ کہ بلوچستان میں ہیومن ریسورس، انفراسٹریکچر کی تعمیر یونیورسٹی اور تعلیمی اداروں کے قیام پر کام ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ ایک ڈھونگ ہے جسے رچایا گیا ہے نام بلوچستان کا اورمعاہدے کہیں اور ہوتے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کامطالبہ ہے کہ سی پیک کے نتیجے میں ہونے والے معاہدوں کو پارلیمنٹ اور بلوچستان اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے تاکہ سی پیک کے تحت آنیوالے منصوبوں سے صوبے کے معاملات کو بہتر کرکے اسے بحرانوں سے نکالا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو بطو ر کالونی ڈیل کیا جارہا ہے یہاں کے حقیقی نمائندوں کیخلاف سازشیں کرکے انہیں پارلیمنٹ میں آنے سے روکا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں پالیسیوں کاتسلسل نہیں ہے

اگر سیاسی جماعتوں کو چھوڑا جاتا کہ وہ اپنے منشور کے تحت پالیسیاں بناتیں تو یقینا آج بلوچستان میں صورتحال یکسر مختلف ہوتی کیونکہ حقیقی نمائندے اپنے عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں اس لیے عموماً کوشش کی جاتی ہے کہ راتوں رات ایک پارٹی بناکر اسے اقتدارسپرد کیا جائے انہوں نے کہاکہ ایک مفلوج حکومت کے پاس صحت،تعلیم، زراعت سمیت دیگر شعبوں اور عوام کو روزگار کی فراہمی سے متعلق پالیسیاں نہیں ہوتی یہ لوگ وقت گزارنے کے بعد اپنا راستہ ناپتے ہوئے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالادست پارلیمنٹ اور حقیقی جمہوری نظام ہی اس سرزمین کے لوگوں اور ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔



کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…