ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

”سی پیک منصوبہ بالادست طبقہ کا سودا تھا“نوابزادہ لشکری رئیسانی نے سنگین الزامات عائد کردیئے،بڑا مطالبہ کردیا

datetime 20  اگست‬‮  2019 |

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ بالادست طبقہ کا سودا تھا منصوبے سے متعلق ہونے والے معاہدوں کو پارلیمنٹ میں لایا جائے۔ بلوچستان میں پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونے کی وجہ حقیقی سیاسی قیادت کیخلاف ہونے والی سازشیں ہیں۔ بالادست پارلیمنٹ اور حقیقی جمہوری نظام ہی ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔

منگل کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو میں نوابزادہ لشکری رئیسانی نے مزید کہا کہ سی پیک منصوبہ جنرل مشرف اور انکے حواریوں نے بلوچستان کے لوگوں پر مسلط کیا کیونکہ پاکستان میں لوگوں کے اجتماعی مفادات کی بجائے بالادست طبقہ کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے اس لیے منصوبے کے نام پر عوام کو سبز باغ دکھائے گئے۔ دراصل سی پیک بالادست طبقہ کا سودا تھا جس کے ذریعے کچھ لوگ اپنا حصہ وصول کرکے بیرون ملک چلے گئے کچھ اب تک اپنا حصہ وصول کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ کا سرچشمہ گوادر ہے جہاں منصوبے کے تحت ایک روپے کا بھی کام نہیں ہوا نہ کہ بلوچستان میں ہیومن ریسورس، انفراسٹریکچر کی تعمیر یونیورسٹی اور تعلیمی اداروں کے قیام پر کام ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ ایک ڈھونگ ہے جسے رچایا گیا ہے نام بلوچستان کا اورمعاہدے کہیں اور ہوتے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کامطالبہ ہے کہ سی پیک کے نتیجے میں ہونے والے معاہدوں کو پارلیمنٹ اور بلوچستان اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے تاکہ سی پیک کے تحت آنیوالے منصوبوں سے صوبے کے معاملات کو بہتر کرکے اسے بحرانوں سے نکالا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو بطو ر کالونی ڈیل کیا جارہا ہے یہاں کے حقیقی نمائندوں کیخلاف سازشیں کرکے انہیں پارلیمنٹ میں آنے سے روکا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں پالیسیوں کاتسلسل نہیں ہے

اگر سیاسی جماعتوں کو چھوڑا جاتا کہ وہ اپنے منشور کے تحت پالیسیاں بناتیں تو یقینا آج بلوچستان میں صورتحال یکسر مختلف ہوتی کیونکہ حقیقی نمائندے اپنے عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں اس لیے عموماً کوشش کی جاتی ہے کہ راتوں رات ایک پارٹی بناکر اسے اقتدارسپرد کیا جائے انہوں نے کہاکہ ایک مفلوج حکومت کے پاس صحت،تعلیم، زراعت سمیت دیگر شعبوں اور عوام کو روزگار کی فراہمی سے متعلق پالیسیاں نہیں ہوتی یہ لوگ وقت گزارنے کے بعد اپنا راستہ ناپتے ہوئے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالادست پارلیمنٹ اور حقیقی جمہوری نظام ہی اس سرزمین کے لوگوں اور ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…