ریکوڈ ک کے معاملے پر پاکستان اور بلوچستان کو جرمانہ اداکرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ۔۔۔وجہ بتا دی گئی

  اتوار‬‮ 11 اگست‬‮ 2019  |  15:53

کوئٹہ (این این آئی) سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ ریکوڈ ک کے معاملے پر پاکستان اور بلوچستان کو جرمانہ اداکرنے کی ضرورت نہیں ہے ٹیتھیان کے پیچھے ایک مخصوص لابی کار فرما ہے جو سونے کی قیمتیں کنٹرول کرنا چاہتی ہے ، ریکوڈ ک کو بیچ کر اپنی کمائی کر نے ایک اور منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ ریکوڈک دوبارہ ٹی سی سی کو دینے کا مطلب آئین پاکستان سے غداری ہے، یہ بات انہوں نے  بلوچستان ہائی کورٹ کے بار روم میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے کہی ، انہوں نے کہا کہ


ریکوڈ ک معاملے پر یک طرفہ حقائق پیش کر کے منصوبہ ایک بار پھر ٹی سی سی کو دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جو کہ آئین پاکستان کے ساتھ غداری ہے سپریم کورٹ کا ٹی سی سی سے متعلق واضح فیصلہ نمبر پی ایل ڈی 641/2013موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹی سی سی مہمان اداکار اور دلال کمپنی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس کے پیچھے بارک گولڈ اور انٹوفاگسٹا نامی کمپنیاں ہیں جو دنیا بھر میں سونے کی مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتی ہیں انہوں نے کہا کہ 29جولائی 1993کو بی ڈی اے جو ایک خودمختار ادارہ ہے کے چیئر مین نے بی ایچ پی نامی کمپنی سے معاہدہ کیا لیکن اس کے پاس قانونی لواضمات پورے نہیں تھے اس کمپنی کے ساتھ عبوری معاہدہ کیا گیا لیکن کمپنی نے اپنی خامیاں ٹھیک کرنے کی بجائے 1970کے مائننگ قوانین میں تبدیلی کروائی اسے 1300کلو میٹر(33لاکھ ایکڑ( علاقہ 1روپے فی ایکڑ کے حساب سے الاٹ کیا گیا کمپنی نے دو سال میں اپنی رپورٹ دینی تھی یہ مدت دو بارقابل توسیع تھی اس کمپنی کو1994جب پہلا لائسنس جاری ہوا۔ تو اس نے کام نہ کرنے کی وجہ سے چھ سال بعد اپنے کام کے علاقے کی حد 1ہزار کلو میٹر کردی سال 2000میں جب یہ کمپنی ناکام ہونے لگی تو اس نے منکور کے ساتھ ملکر ٹی سی سی نامی کمپنی بنائی اس کمپنی نے 1970کے قوانین ختم کروا کے 2002کے مائننگ رولز بنوائے 2003میں ٹی سی سی کو تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا اور یہ2008تک اس میں توسیع حاصل کرتے رہے بعد میں 1ہزار کلو میٹر کی چھان بین کے علاقے کو محض 100کلو میٹر تک محدود کیاگیا 2011میں جب کمپنی نے رپورٹ حکومت کو جمع کروانی تھی۔ تو انہوں نے محض 5کلو میٹر علاقے کی رپورٹ حکومت کو دی کمپنی نے دومقامات ایچ 14اور ایچ 15کے بارے میں بتایا کہ یہاں 260ملین ڈالر کے معدنی ذخائر ہیں جن کی مدت 30سال تک ہے لیکن اس کے برعکس جیولاجیکل سروے آف پاکستان کی رپورٹ کہتی ہے کہ علاقے میں 1ہزار ارب ڈالر کے معدنی ذخائر ہیں جن کی مدت 300سال تک ہے انہوں نے کہا کہ ٹی سی سی ایک فراڈ کمپنی ہے جس نے جس کے خلاف 2005میں بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جو مسترد ہو گئی۔ جس کے بعد 2007میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جبکہ 2011میں اعظم سواتی نے اس حوالے سے عدالت کے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی جو منظور ہوئی عدالت نے اس کیس میں فیصلہ دیا کہ حکومت بلوچستان معاہدے پر جلد از جلد فیصلہ کرے جس کے بعد 10وجوہات کی بناء پر کمپنی سے معاہدہ منسوخ کیا گیا اس کے بعد ٹی سی سی عالمی فورم پر گئی جہاں اسکی اپیل خارج ہوئی لیکن اب ایک اور فورم پر پاکستان پر 6سو ار ب ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے اس ادائیگی کے لئے بھی ٹی سی سی کو پاکستان میں ہائی کورٹ میں رجوع کرنا ہوگا۔ لیکن حکمران طبقہ ایسا ظاہر کررہا ہے کہ یہ شاید پاکستان کو یہ جرمانہ لازمی ادا کرنا ہے انہوں نے کہا کہ ٹی سی سی فراڈ کمپنی ہے جو سپریم کورٹ کے 2013کے فیصلے میںواضح طور پر لکھ دیا گیا ہے بارک گولڈ ہم سے پس پردہ سودا کر رہا ہے ہمارے پاس آج بھی کمپنیاں ریکوڈ ک پر کام کر نے کے لئے تیار ہیں جب ہمارے پاس 1ہزار ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں تو ہم 6ارب ڈالر سے کیوں ڈر رہے ہیں جب سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے تو ہم کیوں ایک ثالثی فورم کے فیصلے کی پابندی کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ریکوڈ ک بیچ کر کمائی کر نے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے یہ آئین پاکستان کے ساتھ غداری ہے اونے پونے داموں ریکوڈ ک کسی کو دینے کی اجازت نہیں دیں گے حکومت اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہر ہ کرے اور بلوچستان اور پاکستان کے وسائل کی لوٹ مار کو روکے ۔

موضوعات:

loading...