پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں سونامی ٹری مہم کو جھٹکا ، 12 لاکھ درخت جل گئے،دوکروڑ 72 لاکھ روپے کا نقصان

datetime 11  اگست‬‮  2019 |

پشاور(اے این این) صوبہ خیبرپختونخوا کے جنگلات میں سال 2018-19 کے دوران آتشزدگی کے واقعات میں 12لاکھ سے زیادہ درخت جل گئے جن سے ایک طرف جہاں تقریبا دوکروڑ 72 لاکھ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں تحریک انصاف حکومت کی سونامی ٹری مہم کو بھی زبردست جھٹکا لگا ہے۔

صوبائی محکمہ جنگلات نے اس نقصان کی تصدیق کردی ہے۔ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ان واقعات کی محکمانہ انکوائری تو کرائی جارہی ہے تاہم اس کی جامع اورآزادانہ تحقیقات کیلیے وزیراعلی خیبرپختونخوا سے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست کی ہے۔صوبائی محکمہ جنگلات نے صوبے کے جنگلات کو 3 ریجنز میں تقسیم کررکھا ہے ان میں سینٹرل سدرن،ہزارہ اور ملاکنڈ ریجن شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق سینٹرل سدرن ریجن جس میں پشاور، مردان،چارسدہ،کوہاٹ،بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان لکی مروت اور نوشہرہ کے اضلاع شامل ہیں۔ان اضلاع میں 88 ہزار708 درخت جلے ہیں۔اگرنقصان کا اندازہ لگائیں توان کی مالیت 98 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ہزارہ ڈویژن میں ایک کروڑ 70 لاکھ،ملاکنڈ ڈویژن میں تین لاکھ 60 ہزار مالیت کے درختوں کا نقصان ہوا ہے۔محکمہ جنگلات کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ اگرچہ جنگلات میں لگی آگ پر قابوپانا محکمہ جنگلات کی ذمے داری نہیں تاہم محکمہ کی طرف سے مشتبہ افراد کیخلاف ایسے واقعات کے 27 کیس درج کرائے گئے ہیں۔سینٹرل سدرن ریجن میں 9،ہزارہ میں 13 اور ملاکنڈ ڈویژن میں پانچ کیس درج کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صوابی اور نوشہرہ کی چراگاہوں میں بھی آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

محکمہ کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کی نسبت گزشتہ ایک سال کے دوران جنگلا ت میں آگ لگنے کے واقعات کی شرح بہت بڑھ گئی ہے۔ سال 2018-19 کے دوران 139 مقامات پر آگ لگی اور اس سے ایک ہزار 735 ایکڑ رقبہ پرجنگلات متاثرہوئے۔ا س کے برعکس 2015-16 کے دوران صرف 370 ایکڑ پرجنگلات میں آگ لگی تھی لیکن اس کے بعد اگلے دوبرسوں میں یہ شرح ایک ہزار414 اور دوہزار 793 تک پہنچ گئی۔ان واقعات پر قابو پانے کیلئے محکمہ نے ایک سٹینڈرڈ پروسیجر تیارکیا ہے۔اس کیلئے ٹیمیں بنائی جائیں گی جو ہرسال انتظامیہ سے مل کر دفعہ 144 کے تحت آتشبازی پرپابندی لگوائیں گی۔ترقیاتی کاموں کیلئے مختص زمین اور جنگلات کے درمیان 100 میٹر کے بفرزون بنائے جائیں گے۔جنگلات سے پانچ سو میٹر کے اندر کے علاقے میں کوڑا کرکٹ دفن کرنے پر بھی پابندی لگادی جائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…