سکھر(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سلیکٹیڈ وزیر اعظم کا امریکہ دورہ عالمی سامراجی قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے تھا، مودی کا کشمیر کے حوالے سے حالیہ اقدام اسی سلسلے کی کڑی ہے، کپتان نے ٹرمپ کے ہاتھوں کشمیر اور فلسطینیوں کا سودا کر دیا اور امت مسلمہ کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہے، حکمرانوں کا بھارت کے خلاف احتجاج برادران یوس کا واویلہ ہے،
جوجودہ حالات میں اسلام آباد کا لاک ڈاؤن کرنے کی ضرور ت ار بڑھ گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی کے سنیئر رہنماؤں مولانا عبید اللہ بھٹو ابن آزاد، مولانا عبدالحق مہر و دیگر سے اسلام آباد سے ٹیلیفونگ گفتگو کے دوران کیا مقامی ترجمان عبدالحق مہر کے جاری کردہ بیان میں مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ کاسدلیسی حکومت شروع دن سے اسی ڈگر پر جا رہی تھی عمران نے مودی کو کشمیر گفٹ میں دے دیا ہے مگر یہ سودا کشمیری عوام قبول کرینگے اور نہ ہی پاکستان قوم، ہم مودی انڈیا سے کشمیر چھین لینگے مگر اس کیلئے اسلام آباد کو یہودی ایجنٹوں سے چھیننا ہی پڑیگا کیونکہ کشمیر کا راستہ اسلام آباد سے جاتا ہے، مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے پاکستان سے تجارتی و سفارتی تعلقات تھے ہی نہیں ختم کہاں سے کئے ئی تو ون وے ٹریفک تھی جو بند کی گئی ہے جس پر سیاست کی جا رہی ہے جس سورج نے ابھرتے ہوئے اپناتاؤ نہیں دیکھایا وہ اترتے ہوئے کیا دیکھائیگا، بیان میں مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے سازش کے تحت ملک کو انتہائی کمزور پوزیشن پر لاکھڑا کر دیا ہے اور ملک کو تنہا کر کے مودی کو کشمیر ہڑپن کرنے کا موقع دیا انہوں نے کہا کہ گھر میں شیر بننے والے حکمران مودی کے سامنے بھیگی بلی بن گئے ہیں جن کے پاس غیرت نہ ہو وہ جنگ کیا کرینگے انہوں نے کہ نیازی نیازی ہوتا ہے ٹیپو سلطان نہیں انہوں نے کہا کہ
بھارت کشمیر اور سرحد پر جارحیت اور جنگ چھیڑ چکا ہے ہمارے حکمران اب بھی امن کا راگ الاپ رہے ہیں اور خطوں اور ٹیلی فونک دفارت کاری میں مصروف ہیں اور تقریروں کے مقابلے کررہے ہیں جو کہ ان کی منافقت اور بزدلی کا ثبوت ہے اب پوری قوم کو نہ صرف کشمیر بلکہ ملک کو بچانے کیلئے میدان میں آنا ہوگا مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مومن جنگ اور موت سے نہیں ڈرتا 313دس ہزار کو شکست دے سکتے ہیں تو بائیس کروڑ عوام ایک ارب کو شکست فاش بھی دے سکتے ہیں۔



















































