اسلام آباد (این این آئی)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئر مین رحمن ملک نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی وار کریمنل ہے، دنیا اور پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کا ساتھ دے ۔جمعرات کو سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا ۔ رحمن ملک نے کہاکہ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ بر بریت کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہاکہ بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے خلاف حکومت پاکستان کے اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اب ہمیں بھارتی وزیر اعظم مودی کو ٹارگٹ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہاکہ نریندر مودی کو امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کے ساتھ نا انصافی کی ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی وار کریمنل ہے۔انہوں نے کہاکہ عالمی عدالت انصاف نے کشمیر میں بھارتی اقدامات کی مذمت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا اور پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کا ساتھ دے۔انہوں نے کہاکہ پاک فوج کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہاکہ اب طاقت سے کسی کو دبایا نہیں جا سکتا،کشمیریوں کی جدو جہد ایک اندورونی تحریک بن چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انڈیا نے کشمیر میں جو کیا ہے اب ہمیں چوکنا ہو کر رہنا ہونا گا۔انہوں نے کہاکہ جو بھی کام ہو وہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ موٹر سائیکل پر چھ سواریوں کی اجازت دے دی،ہم نے مصلحت کے تحت ہر کام کو مذاق بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں جو بینر لگائے گئے اس پر انتظامیہ حرکت میں آ ئی۔انہوں نے کہاکہ جو بینرز لگائے گئے وہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ انڈیا کے خلاف تھے۔انہوں نے کہاکہ بینرز پر لکھا تھا کہ اکھنڈ بھارت دہشت گرد ہے اور بھارتی وزیر اعظم اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کرینگے۔انہوں نے کہاکہ بینرز مسلم لیگ نواز گوجرانوالہ کے صدر نے لگوائے تھے۔انہوں نے کہاکہ بینرز لگوانے والے اور لگانے والے پکڑے گئے۔
ریاست مخالف سر گرمیاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔کمیٹی میں ایف سی اہلکاروں کو تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ زیر بحث آیا ۔کمیٹی نے ایف سی اہلکاروں کو تنخواہیں ادا نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا ۔ کمانڈنٹ ایف سی معظم جاہ انصاری نے بریفنگ دی کہ 1597 اہلکاروں کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔انہوںنے کہاکہ فنڈز کی کمی کے باعث تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر سکے۔
انہوں نے کہاکہ تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے 1000ملین روپے درکار ہیں۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ وزارت داخلہ فوری طور پر ایف سی اہلکاروں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے فنڈز مہیا کرے۔اجلاس کے دور ان اسلام آباد میں مردوہ مرغیوں کے گوشت کی فروخت کا معاملہ زیر بحث آیا ۔چیف کمشنر نے بتایاکہ اسلام آباد میں سلاٹر ہاوس اور فوڈ اتھارٹی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ فوڈ اتھارٹی کے قیام کا ڈھانچہ تیار ہو چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی میں فوڈ اتھارٹی کے قیام کا بل پیش کر دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ سلاٹر ہائوس کے لئے فنڈز کا بندو بست کر دیا گیا ہے،سلاٹر ہاوس ایم سی آئی چلائے ،ہم بنا دینگے۔کمیٹی نے سلاٹر ہاوس کے فوری قیام کی سفارش کر دی۔



















































