پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارت نے مقبوضہ کشمیر فوج بڑھانے کے بعد پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک اور قدم اٹھا لیا، پاکستانی ادارے ہائی الرٹ

datetime 7  اگست‬‮  2019 |

سیالکوٹ(آن لائن)بھارت کی طرف سے دریائے چناب میں بگلیہار ڈیم سے پانی چھوڑنے جانے کی وجہ سے ہیڈمرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 87ہزار چوبیس کیوسک ہوگئی ہے جس کے بعد ایری گیشن کا محکمہ الرٹ ہوگیا ہے اور دریاے چناب کے پانی کی مانیٹرنک جاری ہے،

ترجمان ایری گیشن کے مطابق مقبوضہ کشمیرسے آکر دریائے چناب میں شامل ہونے والے دودیگر دریاؤں دریائے مناور توی کے پانی کی آمدچھ ہزار سات سو اڑتیس کیوسک اور دریائے جموں توی کے پانی کی آمد پانچ ہزار چھ سو چار کیوسک رہی جس کی وجہ سے دریائے چناب کے مجموعی پانی کی آمد اٹھانوے ہزار آٹھ سو چھیاسٹھ کیوسک رہی جبکہ ہیڈمرالہ کے مقام سے نکلنے والی نہر اپرچناب میں پانی کا بہاؤ بارہ ہزار پچاس کیوسک اور نہر مرالہ راوی لنک میں پانی کا بہاؤ اٹھارہ ہزار کیوسک رہا،ڈپٹی کمشنر سید سیالکوٹ بلال حیدرکے مطابق دریائے چناب کاپانی چند ماہ قبل تک بارہ سے اٹھارہ ہزار کیوسک تھا اور نہر مرالہ راوی لنک مکمل کئی ماہ سے بند تھی اور1960ء میں ہونے والے سندھ طاس معاہدہ کے تحت دریائے چناب میں بھارت ہر لمحہ22ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند تھا جس نے کئی سالوں سے دریائے چناب کا پانی روک رکھا تھااوردریائے چناب کو بنجر بنایا ہوا تھااور اب بھارت نے زیادہ پانی چھوڑا ہے تاکہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جاسکے،ضلعی انتظامیہ الرٹ ہے اور انتظامات مکمل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…