پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

جب کوئی فیصلہ منظور نہیں ہوتا تو بھارت کا سفیر یہاں کیا کررہا ہے؟ بے عزتی کیساتھ زندہ نہیں رہ سکتے، سفارتی تعلقات منقطع کئے جائیں،،فواد چوہدری نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کردی

datetime 7  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی)وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کردیا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ جب کوئی فیصلہ منظور نہیں ہوتا تو بھارت کا سفیر یہاں کیا کررہا ہے؟

بھارتی سفیر ایک اچھے انسان ہیں لیکن وہ یہاں ایک فاشسٹ حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں، جب یہاں سفارت کاری ہونی نہیں ہے تو ایک دوسرے کے سفیر پر صرف خرچ کررہے ہیں، ہمیں بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جارہا ہے لڑنا نہیں، ہم لڑنے کے خواہش مند نہیں، ایوان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کشمیر کو فلسطین نہیں بننے دینا چاہیے، ہم یہ نہیں برداشت کرسکتے، ہم بے عزتی کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے، لڑنا پڑا تو لڑیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داری پوری کرے، اگر یہ جنگ ہوئی تو دنیا کے تمام دارالحکومت اس جنگ کی شدت کو محسوس کریں گے کیونکہ جنگیں ہار جیت کے لیے نہیں بلکہ وقار اور عزت کے لیے لڑی جاتی ہیں، معیشت دیکھ کر فیصلے نہیں کرتے،ا گر لڑائی مسلط کی جاتی ہے تو پھر کشمیر کے لیے پہلے بھی تین جنگیں لڑی، ہمیں امن اور جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے، اس ایوان سے کوئی کمزور پیغام بھارت اور دنیا کو نہیں جانا چاہیے۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس ایوان سے یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم پاکستانی پہلے بھی کشمیر کے لیے کٹ مرے تھے اور آج بھی ان کے ساتھ ہیں، ہم اپنی عزت کے لیے کٹ مریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…