منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم خود فرما رہے ہیں کہ ہندوستان میں اپوزیشن کودیوار سے لگا دیا گیا جبکہ یہاں تو۔۔۔! شہبازشریف کے جملے پر پارلیمنٹ کشت زعفران،قہقہے لگ گئے

datetime 6  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بلایا گیا پارلیمنٹ کامشترکہ قہق.وں سے گونج اٹھا،قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی بات پر وزیر اعظم عمران خان، سپیکر اسد قیصر اورچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سمیت تمام اراکین خوب محظوظ ہوئے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کو اپنی ناکامیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

وزیر اعظم خود فرما رہے ہیں کہ ہندوستان میں اپوزیشن کودیوار سے لگا دیا گیا ہے جبکہ آپ نے یہاں دیوار میں چن دیا ہے او رآپ یہی کام کرتے ہیں۔ شہباز شریف کے اس جملے پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے اوروزیر اعظم عمران خان، سپیکر اسد قیصر، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سمیت ایوان میں بیٹھے تمام اراکین کافی دیر تک ہنستے رہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ لیکن اس کے باوجود انہیں جواب انار کلی کی زبان میں ملے گا۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ نریندر مودی نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے،ہاتھ کاٹ دینے چاہئیں، ہم کشمیر کو فلسطین اور خطے میں نیا اسرائیل بننے دیں گے،پاکستان کے پاس جھکنے کا کوئی راستہ نہیں، اب کشمیریوں کیلئے ڈٹ جانے کا وقت آگیا ہے،مودی نے صرف کشمیریوں کے حقوق نہیں چھینے، پاکستان کی غیرت اور عزت کو للکارا ہے،آج کہیں سے ہماری حمایت میں ایک لفظ نہیں آیا، کیا یہ تنہائی اور خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں ہے؟،کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور آخری دم تک جائینگے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو نیم خودمختاری دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کے حوالے سے طلب کئے گئے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف نے کہا کہ 71 سال میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرے

لیکن مودی نے یہ کردیا، مودی سرکار نے صرف کشمیر میں نہ صرف حقوق نہیں چھینے بلکہ پاکستان کی غیرت اور عزت کو للکارا ہے، اور اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے اور پوری مہذب دنیا کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ ہے،مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیاہے، کشمیر کی صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے،کشمیر میں جو کچھ ہوچکا ہے اس پر روایتی مذمت اور متفقہ اور قرارداد سے کام نہیں چلے گا،

ہمیں ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو پتہ چل سکے کہ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب ہمیں کشمیر پر ڈٹ جانا چاہئے،مودی نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر کو فلسطین نہیں بننے دیں اور نہ ہی اس خطے میں ایک اسرائیل بننے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ

پاکستان کے پاس جھکنے کا کوئی راستہ نہیں، اب کشمیریوں کیلئے ڈٹ جانے کا وقت آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے سپیشل اسٹیٹس کو مودی سرکار نے ختم کرکے مکمل غاصبانہ قبضہ کرلیا ہے، یہ وہ عظیم سانحہ ہے جس کا براہ راست پاکستان کی زندگی سے تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بدترین سفاکی ہوئی ہے، مودی سرکار نے صرف کشمیریوں کے حقوق نہیں چھینے، پاکستان کی غیرت اور عزت کو للکارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے وجود کیساتھ

پاکستان کا تعلق ہے، پاکستان کشمیریوں کا ہے اور کشمیری پاکستان کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے تاریخی حوالے سے بات کی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھارتی اقدام پر حکومت کی پالیسی اور اس کا جواب کہاں ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن صبح سے ایوان میں ہے لیکن وزیراعظم عمران خان تاخیر سے آئے، یہ بتائیں کہ اپوزیشن سنجیدہ نہیں یا عمران خان؟۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں ہمسایہ ممالک کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ

تعلقات قائم کرنے ہیں، ہماری ہندوستان سے 3 جنگیں ہوئیں، وزیراعظم کی جب ٹرمپ سے ملاقات ہوئی جس میں امریکی صدر نے کہا کہ مودی نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا کہا ہے، بھارت نے خاموشی سے نہ صرف ثالثی کی نفی کی بلکہ جو اس نے کشمیر میں کرنا تھا وہ انجام دے دیا۔انہوں نے کہا کہ آج کہیں سے ہماری حمایت میں ایک لفظ نہیں آیا، کیا یہ تنہائی اور خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں ہے؟۔انہوں نے کہا کہ یہ کون سی ڈیل ہے کہ ہم افغانستان میں امن کا اسٹیج سجائیں اور کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جائے؟ بتایا جائے یہ امریکی صدر کا ٹرمپ کارڈ تھا یا ٹریپ کارڈ تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تو انتظار تھا کہ وزیراعظم آج قوم کو اعتماد میں لیں گے اور حقائق سامنے رکھیں گے لیکن وزیراعظم تاریخ کی بات کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تنازع میں فریق ہیں نہ پیچھے ہٹیں گے نہ کسی کو ہٹنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور آخری دم تک جائینگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…