منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری پلاٹ الاٹمنٹ سکینڈل  کے بھنور میں پھنس گئے،وزیراعظم کی غریبوں کیلئے وقف سکیم سے پلاٹ حاصل کیا، حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) ڈپٹی سپیکر قاسم سوری سرکاری فلیٹس کی الاٹمنٹ سکینڈل کے ایک نئے تنازعہ کے بھنور میں پھنس گئے ہیں تاہم ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سیاسی مخالفین کردار کشی کرکے دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے

بھائی بلال احمد خان سوری کے نام پر پی ایچ اے ایف میں رہائشی فلیٹس کی الاٹمنٹ سے صوبہ بلوچستان میں ایک نیا طوفان پیدا ہوا ہے۔ بلوچستان کے زعما ء  کہہ رہے ہیں کہ سیاسی اثر و رسوخ پر بلال سوری کے نام پر الاٹ ہوئی ہے حالانکہ وزیراعظم کی یہ سکیم صرف غریبوں کے لئے رکھی گئی ہے اور امراء  طبقہ اس سکیم ے مستفید ہوہی نہیں سکتا۔ سیاسی رہنماؤں کے مطابق قاسم سوری نے سیاسی اثر و رسوخ کے نتیجہ میں یہ الاٹمنٹ اپنے بھائی کے نام کر رکھی ہے اس سلسلے میں آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہا ہے کہ بلال سوری کے نام فلیٹس کی الاٹمنٹ کا انہیں ابتدائی میں کوئی علم نہیں تھا میڈیا کے ذڑیعے پتہ چلا ہے تاہم یہ الاٹمنٹ قواعد کے مطابق ہے بلال سوری کے علاوہ دس لاکھ افراد کے نام اڑھائی کروڑ مالیت کے فلیٹس کی الاٹمنٹ قرعہ اندازیکے ذریعے ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ تنازعہ کے بع دوہ اپنا نام واپس لے لیں کیونکہ ہم مخالفین کو سیاسی سکور بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔  ڈپٹی سپیکر قاسم سوری سرکاری فلیٹس کی الاٹمنٹ سکینڈل کے ایک نئے تنازعہ کے بھنور میں پھنس گئے ہیں تاہم ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سیاسی مخالفین کردار کشی کرکے دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے بھائی بلال احمد خان سوری کے نام پر پی ایچ اے ایف میں رہائشی فلیٹس کی الاٹمنٹ سے صوبہ بلوچستان میں ایک نیا طوفان پیدا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…