منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد میں شکست کے بعد اب اپوزیشن کے پاس ایک ہی راستہ ہے،میر حاصل بزنجو نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 4  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر میر حاصل  خان بزنجو نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے شکست سے حزب اختلاف کمزور ضرور ہوئی ہے تاہم اب سب کے پاس متحد ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، تحریک کے حوالے سے سب متحد ہیں،بس وقت پر اتفاق نہیں ہورہا ہے،سینیٹ الیکشن سے اپوزیشن کو آپس میں تقسیم کرنے اور لڑانے کی کوشش ہوئی ہے تب ہی طاقتور ہوسکتے ہیں جب متحد رہیں گے۔

اتوار کو یہاں  ایک انٹرویو میں میرحاصل بزنجو نے کہا کہ حکومت نے ملکی معیشت تباہ کردی ہے اس لیے اسے ہٹانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سینیٹ الیکشن سے اپوزیشن کو آپس میں تقسیم کرنے اور لڑانے کی کوشش ہوئی ہے تب ہی طاقتور ہوسکتے ہیں جب متحد رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ دونوں کی قیادت زیرعتاب ہے اور جب تک عمران خان موجود ہے کوئی دروازہ نہیں کھلے گا۔سینیٹ الیکشن میں شکست سے متعلق سوال کے جواب میں میرحاصل بزنجو نے کہا کہ ہمارے پاس پیپلزپارٹی کی نمائندگی بلاول بھٹو نے کی ہے، ہم بغیرثبوت کے کسی پر الزام نہیں لگا سکتے، سوشل میڈیا پر ووٹ نہ دینے والے سینیٹرز کے جو نام چل رہے ہیں، وہ 90 فیصد غلط ہیں۔حاصل بزنجو نے بتایا کہ جماعتوں نے اپنے اپنے سینیٹرز کی نشاندہی کرلی ہے تاہم وہ زیادہ سے زیادہ انہیں اپنی پارٹی سے نکال سکتے ہیں، اس سارے معاملے سے پارلیمنٹ اور جمہوریت کا نقصان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا بڑا ہدف نہیں تھا، اب دوبارہ ساری جماعتیں بیٹھیں گی اور پھر حکومت کے خلاف نئی حکمت عملی طے کی جائے گی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب جماعتوں سے ٹکٹ لینا ہوتا ہے تو کسی کو کوئی بادشاہ نہیں لگتا لیکن جب ووٹ دینے کی باری آتی ہے وہ بادشاہ لگنے لگ جاتا ہے۔قائد نیشنل پارٹی نے کہا کہ چودہ افراد کے بکنے سے سیاسی نظام پر دھبہ لگا ہے، اگر کسی کو اختلاف تھا تو وہ اس کا اظہار اپنی جماعت کے سامنے کرتا۔چیئرمین سینیٹ بدلنے سے حکومت کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہونا تھا۔

انہوں نے کہاکہ حکومت اپوزیشن سے گھبرائی ہوئی ہے اسی لیے ان کے جلسے نہیں دکھانے دیتی۔بلوچستان سے متعلق سوال کے جواب میں حاصل بزنجو نے کہا کہ وہاں حکومت کے بعد ہم نے امن قائم کرکے سب سے بڑا مطالبہ پورا کیا ہے۔ اگر بلوچستان کو موجودہ بجٹ ہی ملتا رہا تو پچاس سالوں میں بھی وہاں ترقی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف مشکل جماعت ہے، اس کے ساتھ بات نہیں ہوسکتی کہ وہ بات کے جواب میں گالیاں دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…