بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

 عوام ملکہ جعلسازی بیگم صفدر اعوان، کوٹ لکھپت جیل کے قیدی نمبر 420 اور ان کے بھائی پٹواری اعلیٰ سے کیاکہہ رہی ہے؟فیاض الحسن چوہان نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 15  جولائی  2019 |

لاہور (آن لائن) پاکستان کی 22 کروڑ عوام ملکہ جعلسازی بیگم صفدر اعوان، کوٹ لکھپت جیل کے قیدی نمبر 420 اور ان کے بھائی پٹواری اعلیٰ سے کہہ رہی ہے کہ ہمیں ملکی خزانے سے لوٹی گئی دولت کا حساب دو۔ ن لیگ کا سارا خاندان اپنے داماد، سسر اور سمدھی سمیت پہلے اس ملک کو دل کھول کر لوٹتا ہے اور پھر جمہوری روایات اور سزا یافتہ ملزمان کے پروڈکشن آرڈر کی بات کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے کالونیز فیاض الحسن چوہان نے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی اجلاس کے غیر معینہ مدت تک ملتوی کیے جانے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ نواز شریف نے جیل میں ویڈیو سکینڈل کے مرکزی کردار ناصر جنجوعہ سے خصوصی ملاقات کی اور اس دوران سینئر پارٹی رہنما باہر گرمی میں انتظار کرتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جج ارشد ملک نے جو بیان دیا ہے اسمیں بھی انہی تواریخ کا حوالہ موجود ہے جن میں ناصر جنجوعہ نواز شریف سے جیل میں ملاقات کے لیے آتا تھا۔ انہوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ کیسا خاندان ہے جس کے ملازم ججوں کی جھوٹی ویڈیوز بناتے ہیں، بیٹی ویڈیوز میڈیا پر چلاتی ہے، بیٹے مدینہ منورہ جیسی پاکیزہ جگہ پر جا کر رشوت کا بازار گرم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور باپ سسیلین مافیا کے گاڈ فادر کی طرح رشوت بھی دیتا ہے، دھمکیاں دے کر بلیک میل بھی کرتا ہیاور بات نہ ماننے پر قتل بھی کروا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی جریدے ڈیلی میل کے نمائندے نے خبر بریک کی ہے کہ ایک برطانوی ادارے کی جانب سے 2007 سے 2012 تک زلزلہ متاثرین کے لیے فراہم کی جانے والی امدادی رقم میں سے 8 کروڑ شہباز شریف کے داماد علی عمران کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا۔ مزید برآں 2003 میں تین کروڑ پاؤنڈ کے اثاثے رکھنے والا شہباز شریف 2018 میں 20 کروڑ پاؤنڈز جو تقریباً 40 ارب روپے بنتے ہیں،

کا مالک کیسے بنا۔ انہوں نے اپوزیشن کے پروڈکشن آرڈر کے مطالبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے گزشتہ ادوار میں پروڈکشن آرڈرز کا قانون بنانے پر سرے سے توجہ ہی نہیں دی گئی اور اب اس کے حق میں فضول نعرے بازی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پروڈکشن آرڈر صرف ان ممبران صوبائی اسمبلی کے لیے جاری کیا جا سکتا ہے جو کسی سیاسی بنیادوں پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جیل میں ہوں نہ کہ غیر ملکی قرضہ و امداد کھانے والوں اور لٹیروں کے لیے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنا قانون کے مطابق صرف سپیکر اسمبلی کی صوابدید ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…