بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

سرکاری خزانے کو کروڑوں کا جھٹکا،ایوان بالا کی چھتوں نے ٹپکنا شروع کردیا،چھتوں اور دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں 

datetime 7  جولائی  2019 |

اسلام آباد  (آن لائن) قومی اسمبلی،پارلیمنٹ لاجز  اور سرکاری کوارٹرزکی تعمیر و ترقی کے لئے سالانہ3ارب روپے کا بجٹ جاری ہونے کے باوجود بارش نے ایوان بالا کی چھتوں میں دراڑیں ڈال دیں، دیواروں نے گرنا اور چھتوں نے ٹپکنا شروع کردیا، ہر سال ایوان بالا کے لئے کروڑوں روپے کا بجٹ خرچ کرنے کا دعویٰ کرنے والے سی ڈی اے حکام کی کرپشن بارش نے منظر عام کردی‘

گزشتہ روز کی تیز بارش سے پارلیمنٹ ہاؤس کے چار کونے چھتوں سے بارش کا پانی اندر داخل ہوگیا گزشتہ سال بھی بارشوں کی وجہ سے  پارلیمنٹ کی مختلف دیواروں پر  دراڑیں بھی پڑ چکی تھیں لیکن تا حال پانی کے داخلے اور دیواروں کی رینیویشن کے لئے کوئی فارمولا تیار نہیں کیا جا سکا پارلیمانی کمیٹیوں نے واویلا شروع کردیا۔ سی ڈی اے افسران نے چپ سادھ لی۔ خفیہ اداروں نے سی ڈی اے مینٹی ننس افسران  کی کرپشن کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی ترقیاتی ادارے کی طرف سے اسلام آباد کی سرکاری عمارتوں جس میں پارلیمنٹ ہاؤس‘ پارلیمنٹ لاجز اور سرکاری کوارٹروں کی مینٹیننس اور تزئین و آرائش کیلئے سالانہ تین ارب سے زیادہ کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس‘ پارلیمنٹ لاجز کیلئے اس بجٹ کا نصف سے زیادہ حصہ خرچ کرنے کا دعویٰ کیاجاتا ہے۔ اس کے باوجود جونہی بارشں شروع ہوتی ہے، پارلیمنٹ ہاؤس کی چھتیں ٹپکنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس مقصد کیلئے سی ڈی اے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کو فرضی ٹھیکے دے کر سالانہ کروڑوں روپے کا بجٹ کاغزی کارروائی میں خرچ کرکے آپس میں بانٹ لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کئی عرصہ سے پارلیمنٹ کی بوسیدہ اور خراب حالت درست نہیں کی جاسکتی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ   سال پارلیمنٹ ہاؤس اور لاجز کی مرمت کیلئے 80 کروڑ  مختص  کئے گئے اور مرمتی کام میں جس ٹھیکیدار کو نوازا گیا اس ٹھیکیدار کا سی ڈی اے کے کنٹریکٹ  لسٹ میں نام ہے  اور  نہ ہی ادارے میں یہ کنٹریکٹر رجسٹرڈ ہے اس کے باوجود من پسند شخص سے کروڑوں روپے کی ڈیل کردی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ بلڈنگ کی چھتوں پر مٹھی بھر سیمنٹ لگا کر فرضی کام کرتے ہوئے سرکاری خزانہ کو 80 کروڑ کی پھکی دے دی گئی ہے جبکہ ایم این اے ہاسٹل  لاجز کے رنگ و رغن کیلئے مختص کی گئی سولہ کروڑ روپے کی رقم کو بھی ملی بھگت سے غبن کردیا گیا ہے ایم این اے ہاسٹل کے سال کے اندر صرف تین کمرے سفارشی بنیادوں پر رنگ و روغن کئے جاسکے ہیں باقی درجنوں کمرے شدید خستہ حالی کا شکار ہیں جہاں پر سیمنٹ پھوٹ پڑی ہے جبکہ دیواریں دیکھنے کے قابل نہیں ہیں ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اس ہوالے سے چیئرمین سی ڈی اے ممبر انجینئرنگ کوتحریری طور اس معاملے کا فوری حل نکالنے کا حکم دیا ہے

جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سی ڈی اے کے شعبہ مینٹیننس کے خلاف گزشتہ سال پارلیمنٹ ہاؤس اور لاجز پر خرچ کئے گئے تمام کوائف کی رپورٹ مانگ لی  ہے جس  کے مطابق  80 کروڑ روپے کی جاری کی گئی رقم کہاں  اور کس کے ذریعے خرچ کی گئی ہے، کی رپورٹ کے بارے میں مکمل انکوائری عمل میں لائی جائے گی ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سی ڈی اے کے گزشتہ سال میں جن جن ٹھیکیداروں کو من پسند ٹھیکے جاری کئے گئے ان کے حوالے سے بھی انکوائری عمل میں لائی جارہی ہے اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے کو ایک رپورٹ ملی ہے جس کے مطابق سی ڈی اے کے شعبہ مینٹیننس نے گزشتہ سال روڑوں کی کارپٹنگ‘ مکانات کی مینٹننس اور رنگ و روغن کی مد میں ملی بھگت سے کروڑوں روپے کی کرپشن کی ہے جبکہ مطلوبہ ترقیاتی کام صرف کاغذی کارروائی میں ڈالکر قومی خزانے کو لوٹا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…