ہفتہ‬‮ ، 09 مئی‬‮‬‮ 2026 

جرمنی نے 50 سے زائد ممالک کے اربوں ڈالر کے قرضے معاف کردئیے

datetime 24  جون‬‮  2024 |

نئی دہلی (این این آئی)جرمن وزارت خزانہ کے مطابق رواں صدی کے آغاز سے اب تک جرمنی کی طرف سے مجموعی طور پر 52 ممالک پر واجب الادا 15.8 ارب یورو مالیت کا قرض معاف کر دیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے قرضوں میں ریلیف کا انتظام یقینی بنانے کے لیے 52 ممالک کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔معاف کردہ قرضوں میں سب سے زیادہ حصہ عراق کا ہے۔ جرمنی نے عراق کے ذمہ واجب الادا 4.7 ارب ڈالر مالیت کا قرضہ معاف کیا۔ عراق کے بعد نائیجیریا کا دوسرا نمبر ہے، جسے 2.4 ارب ڈالر مالیت کا قرض معاف کیا گیا جب کہ کیمرون کے ذمے 1.4 ارب ڈالر کا قرض بھی معاف کر دیا گیا۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ برس کے اختتام تک 70 سے زائد ممالک نے جرمنی کو 12.2 بلین ڈالر کے قرضے واپس کرنا تھے۔ اس وقت سب سے زیادہ واجبات مصر (1.5 بلین ڈالر)، بھارت (1.1بلین ڈالر) اور زمبابوے (889 ملین ڈالر) نے ادا کرنا ہیں۔جرمن حکام کے مطابق قرضوں میں ریلیف ‘میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے یا برقرار رکھنے اور مقروض ممالک کے لیے قرضوں کی پائیداری کو بحال کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔معاف کردہ قرضوں میں ریاستوں کے ساتھ مالی تعاون کے واجب الادا فنڈز کے ساتھ ساتھ جرمن ایکسپورٹرز اور بینکوں کے سپلائی اور کریڈٹ معاہدوں سے حاصل ہونے والی تجارتی وصولیاں بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…