اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

راہبر کمیٹی کا اہم ترین اجلاس،تاہم رہنمائوں کو موبائل فون اندر کیوں نہ لے جانے دیئے گئے ؟کمیٹی کے فیصلوں سے کونسا بھونچال آنے والا ہے ؟

datetime 5  جولائی  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )اپوزیشن کی راہبر کمیٹی نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے سے متعلق اے پی سی فیصلے کی توثیق کردی ہے ۔ گزشتہ روز جمعہ کو حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے سے متعلق اور چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے حوالے سے نو سیاسی جماعتوں کے گیارہ اراکین پر مشتمل راہبر کمیٹی کا پہلااجلاس منعقد ہوا اس موقع پر اجلاس میں شرکت کیلئے

آنے والے رہنمائوں کے موبائل فون کمیٹی سے باہر رکھوائے گئے تاکہ کمیٹی میں ان رہنمائوں کو باہر سے کوئی مشورہ یا اندر کی کوئی بات لیک نہ ہوجائے ۔ ذرائع کے مطابق راہبر کمیٹی نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا متفقہ فیصلہ کرلیاگیا ہے کہ نئے چیئرمین سینٹ کے نام پر مشاورت کی جائے گی کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دو ، دو جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کا ایک ایک نمائندہ شامل تھا ۔ راہبر کمیٹی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے یوسف رضا گیلانی ، نیئر بخاری ممبر تھے تاہم یوسف رضا گیلانی کی عدم موجودگی کے باعث فرحت اللہ بابر نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اس موقع پر صحافی نے فرحت اللہ بابر سے سوال کیا کہ آپ تو ممبر ہی نہیں ہیں تو پھر کمیٹی میں شرکت کیسے کی جس پر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ یوسف رضا گیلانی کی عدم موجودگی میں مجھے کمیٹی کا ممبر بنایا گیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال راہبر کمیٹی کے ممبر ہیں جمعیت علمائے اسلام سے اکرم خان درانی ، نیشنل پارٹی سے میر حاصل بزنجو کمیٹی میں شامل ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے عثمان کاکڑ ، قومی وطن پارٹی سے ہاشم بابر ، اے این پی سے میاں افتخار مرکزی جمعیت اہلحدیث سے شفیق پسوری اور جمعیت علمائے پاکستان سے اویس نورانی نے راہبر کمیٹی میں شرکت کی ۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے راہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ چیئرمین سینٹ کے لئے 3 تجاویز دی ہیںپہلی تجویز یہ کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئی مشترکہ نام ہو ، دوسری تجویز یہ دی جا رہی ہے کہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کو چیئرمین سینٹ دیا جائے اگر اس پر بھی عمل نہیں ہوتا تو پھر تیسری تجویز یہ ہے کہ سب سے بڑی دو سیاسی جماعتیں مشاورت سے ایک نام دیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف بہت جلد تحریک عدم اعتماد لائیں گے اور رہبر کمیٹی سے فیصلے کرے گی کہ بھونچال آ جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…