ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

عوام کو بڑا جھٹکا،حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے رواں مالی سال سے نئی ٹیکس سلیب متعارف کرادی،تفصیلات جاری

datetime 2  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو بھی زندہ درگور کرنے کیلئے رواں مالی سال کیلئے نئی ٹیکس سلیب متعارف کرادی۔بینکوں کیلئے آمدنی کا فارمولا لاگو کرتے ہوئے نئی سلیبز کا اطلاق باقاعدہ کردیا گیا ہے۔نئی ٹیکس سلیب کے تحت ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ والوں پر 2500روپے ماہانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے،6 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے افراد پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا جبکہ 6 لاکھ سے زائد اور 12 لاکھ تک سالانہ آمدن والے افراد پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ 18 لاکھ سالانہ

آمدن پر 30 ہزار فکس ٹیکس کے علا وہ 12 لاکھ سے اوپر والی رقم پر 10 فیصد ٹیکس، 18 سے 25 لاکھ روپے آمدن تک 90 ہزار فکس ٹیکس اور18 لاکھ سے اوپر والی رقم پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیاگیاہے۔دستاویز کے مطابق 25 سے 35 لاکھ روپے آمدن پر 1 لاکھ 95 ہزار فکس اور 25 لاکھ روپے سے اوپر والی رقم پر 17.5 فیصد ٹیکس، 35 سے 50 لاکھ روپے آمدن پر 1لاکھ 95 ہزار فکس اور 35 لاکھ روپے سے اوپر والی رقم پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ 50 لاکھ سے 80 لاکھ آمدن تک 6 لاکھ 70 ہزار فکس ٹیکس اور 50 لاکھ سے اوپر والی رقم پر 22.5 فیصد رقم پر ٹیکس عائد ہوگا۔نئی سلیب کے مطابق 80 لاکھ سے 1 کروڑ 20 لاکھ آمدن پر 12لاکھ 45 ہزار فکس ٹیکس اور 80 لاکھ سے اوپر والی رقم پر 22.5 فیصد رقم پر ٹیکس، 1 کروڑ 20 لاکھ روپے سے 3 کروڑ آمدن پر 23 لاکھ 45 ہزار فکس اور ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے اوپر والی رقم پر 27.5 فیصد آمدن پر ٹیکس، 3 کروڑ سے 5 کروڑ آمدن پر 72 لاکھ 95 ہزار فکس اور 3 کروڑ روپے سے اوپر والی رقم پر 30 فیصد ٹیکس، 5 کروڑ سے 7 کروڑ 50 لاکھ تک آمدن پر 1 کروڑ 32 لاکھ فکس جب کہ 5 کروڑ سے اوپر والی رقم پر 32.5 فیصد، 7 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آمدن پر 2 کروڑ 14 لاکھ فکس ٹیکس جب کہ ساڑھے 7 کروڑ روپے سے اوپر والی رقم پر 35 فیصد لاگو ہوگا۔واضح رہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں آرمی چیف، صدر پاکستان، وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر تمام مراعات یافتہ طبقے کو انکم ٹیکس سے چھوٹ برقرار ہے اور مراعات یافتہ طبقے کیلئے ٹیکس سے متعلق دوسرے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…