پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

لیاری گینگ وار کاسرغنہ عزیر بلوچ اب کہاں ہے؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 28  جون‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) سندھ ہائی کورٹ نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو سندھ پولیس کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت کے طرف سے کہا گیاہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہے اسے پولیس کے سامنے پیش کریں۔عدالت نے یہ حکم عزیر بلوچ کے گینگ کے ہاتھوں سینٹرل جیل کے حوالدار سمیت چار شہریوں کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت میں دیاہے۔ عدالت نے اس معاملے میں  وزارت دفاع کوتعاون کی ہدایت  بھی کردی۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے عدالت کو بتایا کہ عزیر بلوچ کی حوالگی کے لیے وزرات دفاع کو خط لکھ دیا ہے،وزارت دفاع نے خط کا جواب ہی نہیں دیا۔اس پر عدالت نے کہا کہ ہمیں خط و کتابت سے کوئی دلچسپی نہیں، عملی اقدامات کا بتائیں۔پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ متعلقہ حکام  سے ملاقات کی انھوں نے بھی بتایا کہ اعلی حکام کو صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ عزیر بلوچ ایک کیس میں مطلوب ہے تو پولیس اس کا بیان بھی نہیں لے سکتی؟پولیس کی طرف سے عدالت کو بتایا گیاکہ گینگ وار کے عزیر بلوچ نے چاروں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ لیاری گینگسٹرعزیر بلوچ کا اعترافی بیان اور جے آئی ٹی پورٹ عدالت میں پیش کی جاچکی ہے۔پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عزیر بلوچ نے حوالدار امین عرف لالہ، غازی خان، شیر افضل خان اور شیراز کو اغوا کے بعد قتل کردیا تھا۔عزیر بلوچ نے 2011میں محمد امین سے بدلہ لینے کیلئے ان افراد کواغوا کے بعد قتل کیااورمقتولین کی لاشیں تیزاب میں پھینکی گئیں۔رپورٹ کے مطابق چاروں افراد کو مارنے والے خود قتل ہوچکے ہیں،لیاری گینگ وار کا سرغنہ عزیر بلوچ سیکیورٹی اداروں  کی تحویل میں ہے۔چاروں افراد کی اغوا میں ملوث لیاری گینگ وار کا شاہد بکک اور ذاکر ڈاڈا جیل میں ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ پولیس شاہد بکک اور ذاکر ڈاڈا سے تحقیقات کے بجائے درخواست گزاروں کو کبھی قبرستانوں میں لے جاتی ہے کبھی کہیں اور۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ  حوالدار امین عرف لالہ، غازی خان، شیر افضل خان اور شیراز کو سینٹرل جیل سے اغواکرلیا گیا،چاروں افراد کو بازیاب کرایا جائے، اگر قتل ہوچکے ہیں تو لاشیں حوالے کی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…