بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ایک ڈالر 250 روپے  کا کب تک ہوجائے گا؟ انتہائی خطرناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 16  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گیلپ سروسے حکومتی معاشی پالیسیوں پر عدم اعتماد ہے آئندہ سال ڈالر 250 روپے تک پہنچے کی باتیں ہو رہی ہیں حکومت گرانے سے متعلق ابھی تک فیصلہ نہیں کیا تاہم مڈٹرم الیکشن جمہوری مطالبہ ہے  عمران خان بائیس سال تک جو کہتے رہے اس کا بالکل الٹ کر رہے ہیں سیاست چھوڑ دوں گا لیکن کنٹینر والی زبان استعمال نہیں کروں گا۔

جمعرات کے روز نجی  ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوا معاشی ٹیم میں نئے چہرے لائے گئے حکومتی ٹیم میں شامل کچھ چہرے پرانے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے ایمنسٹی سکیم جیسی چیزیں بہت اہم ہیں انہوں نے کہا حکومت مارکیٹ کو اپنے اعتماد میں نہیں لے سکی تحریک انصاف حکومت کا رویہ اور زبان اپوزیشن والی ہے ان کو اب تک یقین نہیں ہو سکا کہ وہ اقتدار میں آ چکے ہیں خواجہ آصف نے کہا کہ حکومتی صفوں میں غیر سنجیدگی ہے اور وزراء بچگانہ حرکتیں کرتے ہیں قومی اسمبلی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کو جواب دینے پر فواد چوہدری، مراد سعید اور حماد اظہر کی آپس میں لڑائی ہو گئی تھی انہوں نے کہا کہ حکومت  گرانے متعلق مسلم لیگ ن  نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا  یہ خود ہی اپنے بوجھ سے گر جائیں گے مڈٹرم الیشکن جمہوری مطالبہ ہے لیکن ابھی اجتماعی طورپر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ گیلپ سروے حکومتی معاشی پالیسیوں پر عوام کی جانب سے عدم اعتماد کا اظہار ہے لوگ بینکوں میں پیسے رکھنے  کے بجائے کیش میں کاروبار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں حالات یہ ہیں کہ اگلے سال ڈالر 250 روپے تک پہنچنے کی باتیں ہو رہی ہیں معاشی صورتحال کی سمت کس طرف ہے یہ سمجھ سے باہر ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان قومی سطح کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے مشرف کے دور میں ایمنسٹی سے فائدہ اٹھایا بائیس سال جو باتیں کرتے رہے آج اس کا بالکل الٹ کر رہے ہیں

جس شخص کے قول و فعل میں اتنا بڑا تضاد ہو وہ ملک کیسے چلا سکتاہے انہوں نے کہا کہ سیاست چھوڑ دوں گا لیکن کنٹینر والی زبان استعمال نہیں کروں گا حکومت تبدیل کرنے کے لئے سیاسی حربے استعمال کریں گے خواجہ آصف نے کہا کہ پارٹی کی تنظیم  بن گئی ہے مشاورت کے لئے اجلاس کی تجویز آئی ہے عید کے بعد مشاورتی اجلاس مین پارٹی پالیسی پر بات کی جائے گی اور بڑوں کے ساتھ بیٹھ کر طے کریں گے کہ پارٹی کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…