بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

محکمہ توانائی و بجلی خیبرپختونخوا اور منسٹری آف پاور ڈویژن اسلام آباد کے مابین بجلی کی فروخت کیلئے معاہدوں پر دستخط،صوبے کو سالانہ اربوں کی آمدن ہوگی

datetime 14  مئی‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ آج صوبے کیلئے تاریخی دن ہے کیونکہ صوبے کے اپنے وسائل سے پیدا ہونے والی 71 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جارہی ہے، جس سے صوبے کو سالانہ 2 ارب روپے آمدن ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت بہت جلد مزید 200 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرے گی، جو لوگ منفی پروپیگنڈہ کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ صوبے کے پاس کچھ نہیں اُنہیں آج جواب مل گیا ہے۔ صوبائی حکومت پن

بجلی کے متعدد چھوٹے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، بیشتر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور باقی ماندہ منصوبے جلد مکمل ہو جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پیڈو / محکمہ توانائی و بجلی خیبرپختونخوا اور پاور ڈویژن اسلام آبادکے مابین بجلی کی خرید و فرخت کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط کے تقریب اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے مکمل شدہ تین پن بجلی گھروں پیہور ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (صوابی)18 میگاواٹ، رانولیہ ہائیڈروپراجیکٹ (کوہستان)17 میگاواٹ، درال خوڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (سوات)36.6 میگاواٹ سے مجموعی طور پر پیدا ہونے والی 71 میگاواٹ بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ صوبائی حکومت کی توانائی کے شعبے میں غیر معمولی دلچسپی کا واضح ثبوت اور صوبے کیلئے ایک تاریخی دن ہے۔ اس معاہدے سے صوبے کو سالانہ 2 ارب روپے کی آمدن ہو گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاہدے کے تحت صوبائی حکومت کسی بھی وقت اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس معاہدے سے نکل سکتی ہے اور دوبارہ سی سی پی اے۔جی کو فروخت کر سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پن بجلی کے دیگر جاری منصوبے بھی جلد مکمل کر لئے جائیں گے، جن کی تکمیل سے مجموعی طور پر 216 میگاواٹ بجلی پید اہو گی۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے کے مختلف اضلاع میں بیشتر چھوٹے پن بجلی گھر مکمل کر چکی ہے جبکہ باقی ماندہ بھی جلدمکمل کر لئے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…