منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ایڈز میں مبتلاڈاکٹر کا گھٹیا اقدام، اپنامتاثرہ انجکشن لگاکر 45افرادکو ایڈز میں مبتلا کردیا،افسوسناک واقعہ،گرفتارکرلیاگیا

datetime 30  اپریل‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی)ایڈز میں مبتلاظالم ڈاکٹر نے اپنا متاثرہ انجکشن لگاکر25بچوں سمیت45 افرادکو ایڈز میں مبتلا کردیا، سندھ ہیلتھ کمیشن نے ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتارکرلیاہے جبکہ ڈاکٹر کے ذہنی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت کردی ہے۔ملزم کو عدالت نے 3روزہ ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کردیاگیا۔تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں ایڈز پھیلنے کی وجہ سے متعلق ہولناک انکشافات نے کھلبلی مچادی ہے، ایڈز میں مبتلاظالم ڈاکٹر مظفرگھانگروبچوں سمیت

معاشرے سے انتقام لینے لگا اور اپنامتاثرہ انجکشن لگا کر 25 بچوں سمیت45 افراد کو ایڈز میں مبتلاکردیا۔ متاثرہ بچوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر مظفر گھانگرو خود ایڈز کا شکار ہے۔ڈپٹی کمشنر نے شک کی بنیاد پر ڈاکٹر مظفر کا ایچ آئی وی ایڈز ٹیسٹ کروایا تو اس میں ایڈز کی تصدیق ہوگئی۔ ٹیسٹ مثبت آنے پر ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈاکٹر عبدالسمیع کی مدعیت میں مذکورہ ڈاکٹر کے خلاف رتو ڈیرو تھانہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں دفعہ 324 ارادہ قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ملزم ڈاکٹرکو منگل کے روزجوڈیشنل مجسٹریٹ سول جج کی عدالت میں پیش کیاگیا۔عدالت نے ملزم کو تین روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ نعمان صدیقی کے مطابق ڈاکٹر نے انتقامی طور پر اپنا انجکشن آنے والے مریضوں کو لگایا، کلینک کا ڈاکٹر کا ذہنی توازن بھی ٹھیک محسوس نہیں ہو رہا، ڈاکٹر کے ذہنی معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنراورمحکمہ صحت نے رتوڈیرو میں بچوں سمیت45سے زائد افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آردرج کرکے پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے اور کلینک کوسیل کردیاگیا ہے۔ڈی سی لاڑکانہ نے کہاکہ رتوڈیرومیں ایچ آئی وی وائرس پھیلنے پرانتظامیہ اورمحکمہ صحت نے نوٹس لیا۔ متاثرمریضوں کا علاج حکومت کرائیگی، علاج کیلئے رتوڈیرو میں نیاسینٹررواں ہفتے سے کام شروع کردے گا۔

ڈپٹی کمشنرلاڑکانہ نعمان صدیقی نے کہاکہ علاقے سے بچوں کے ایڈز کے مریضوں کی بڑی تعدادآرہی تھی، تحقیقات کی گئیں توایک ہی ڈاکٹر کا بار بار نام آرہا تھا، ایک ٹیم بناکر ڈاکٹر کیخلاف تحقیقات کی گئیں، تحقیقات میں ڈاکٹر کو ملوث پایاگیا اور کارروائی کی گئی، ڈاکٹر کو حراست میں لیاگیا ہے اور مزیدتحقیقات جاری ہیں، متاثرہ بچوں کے علاج کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ڈائریکٹرہیلتھ کیئرکمیشن ڈاکٹرایاز نے بتایاکہ گرفتار ڈاکٹر سندھ

ہیلتھ کیئرکمیشن سے بھی رجسٹرڈ نہیں، ڈاکٹر کوالیفائیڈ ہیں لیکن لائسنس ری نیو نہیں کرایا، گرفتار ڈاکٹر کیخلاف کارروائی کی درخواست کرتے ہیں۔واضح رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے حلقہ انتخاب میں ایڈز کا موذی مرض شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک ماہ میں 15 بچوں کے سیمپل ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص کے لئے بھیجے گئے ہیں، جن بچوں میں ایڈز کا وائرس مثبت آیا ہے ان کی عمریں 8 ماہ سے 8 سال تک کی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…