بلوچستان میں تباہی مچانے والا بارش کا سسٹم پنجاب میں داخل، متعدد شہروں میں بارش کا آغاز، محکمہ موسمیات نے انتہائی تشویشناک پیش گوئی کر دی، ہائی الرٹ

  پیر‬‮ 15 اپریل‬‮ 2019  |  23:46
کراچی/لاہور/رحیم یار خان/فیصل آباد/بہاولپور /لودھراں( این این آئی)پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں میں آندھی اور مٹی کے طوفان نے معمولات زندگی بری طرح متاثر کیا ،کراچی سمیت ساحلی علاقوں میں آندھی اور طوفان کے باعث حادثات کے نتیجے میں بچی سمیت دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ، پنجاب کے جنوبی علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا جو وقفے وقفے سے جاری رہا ، لاہور میں شام کے وقت اچانک طوفان کے بعد تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہو گئی جس سے بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ بھر کے ساحلی علاقوں میں آندھی اور گرد آلود ہوائیں چلتی رہیں جبکہ مختلف علاقوں میں بوندا باندی بھی ہوئی ۔ فضا میں دھول مٹی کی مقدار معمول سے کئی گنا بڑھ گئی ہے اور حد نگاہ کم ہوگئی ہے۔ گرد آلود ہواؤں کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کی تاریں بھی ٹوٹ گئیں جس سے بجلی کی فراہمی متاثر رہی۔کراچی میں پیپلز چورنگی کے قریب درخت گرنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ نارتھ ناظم آباد عبداللہ کالج کے قریب تیز ہواؤں کے باعث بجلی کی تار چلتی گاڑی پر گرنے سے آگ بھڑک اٹھی اور اس میں سوار افراد جھلس کر زخمی گئے۔ مذکورہ افراد اورنگی ٹاؤن میں شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے۔ٹیپو سلطان سگنل کے قریب سکول کی چھت گرنے سے 5 بچے زخمی ہوگئے۔ جیکسن کے علاقے میں گھر کی چھت گرنے سے کمسن بہن بھائی زخمی ہو گئے۔گلبہار حاجی مرید گوٹھ میں گھر کی چھت گرنے سے 5 سالہ بچی تنزیلہ جاں بحق ہوگئی۔ لیاری غریب شاہ روڈ پر بھی مدرسے کی چھت گرنے سے 6 بچے زخمی ہوگئے۔ مٹی کے طوفان و تیز ہواؤں کے باعث متعدد ٹریفک حادثات بھی پیش آئے جس کے نتیجے میں کئی گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں اور الٹ گئیں۔گرد آلود اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ماہی گیروں کی کشتی ڈوب گئی تاہم ماہی گیروں نے جانیں بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگیں لگائیں اور تمام 13 ماہی گیر بحفاظت اپنے اپنے گھروں تک پہنچ گئے۔ اورنگی ٹاؤن، گارڈن، گولیمار، جیل چورنگی، طارق روڈ اور ایم اے جناح روڈ سمیت مختلف علاقوں میں بوندا باندی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہواں کا سسٹم شہر میں منگل تک موجود رہے گا ۔بدین، کڈن، جاتی، ٹھٹھہ، ٹنڈوجام سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں میں بھی تیز ہواں کے ساتھ مٹی کے طوفان سے متعدد کچے مکانات کی چھتیں اڑ گئیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کی جانب سے چلنے والی ہواں کی رفتار 80 کلو میٹر فی گھنٹہ سے بھی زائد رہی۔پنجاب کے جنوبی اضلاع میں بارشوں اور ژالہ باری شروع ہوگئی۔ مغربی ہواں سے بننے والے نظام کے باعث گزشتہ کئی روز سے بلوچستان میں بارشیں برسا رہا ہے جو اب پنجاب میں داخل ہو چکا ہے۔ اس نظام کے باعث پنجاب کے جنوبی اضلاع بہاولپور، لودھراں اور دیگر علاقوں میں بارشیں برس رہی ہیں۔گزشتہ روز شام کے وقت اچانک تیز آندھی شروع ہو گئی جس سے نظام زندگی معطل ہو گیا ۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے کئی مقامات پر تشہیری بورڈ گر گئے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہوا جس سے کئی علاقوں میں بجلی بند ہو گئی۔تیز آندھی اور بارش کی وجہ سے لیسکو ریجن کے 150 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئی جس کی وجہ سے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے تاہم وقفے وقفے سے بجلی بحال کر دی گئی۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ لاہور میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بارشیں آئندہ 24 سے 36 گھنٹوں تک جاری رہیں گی۔ اس دوران تیز ہوائیں بھی چلتی رہیں گی۔ صورتحال کے پیش نظر متعلقہ اداروں کی طرف سے سفر کرنے والوں کو بہت محتاط رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ملتان اور گردونواح میں 84 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز آندھی اور پھر موسلا دھار بارش نے ملتان اور گردونواح میں بجلی کے نظام کو شدید متاثر کیا ۔ شدید آندھی اور بارش کے باعث میپکو ریجن میں 115 فیڈرز ٹرپ کر گئے جبکہ بارش کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8 افراد بھی زخمی ہو گئے جنہیں نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسری طرف شدید بارشوں کے باعث آم کے باغات اور گندم کی فصل بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔فیصل آباد میں شام کے وقت 55 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز آندھی نے کئی درخت اکھاڑ دیے جبکہ عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ آندھی کے بعد تیز ہواؤں کے ساتح موسلا دھار بارش نے جھل تھل کر دیا۔ گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش سے سٹرکیں پانی سے بھر گئیں جبکہ کئی علاقوں میں فیڈر ٹرپ ہونے سے بجلی غائب ہو گئی۔ادھر فیسکو ریجن کے مختلف اضلاع میں شدید طوفان سے ریجن بھر کے 110 فیڈرز سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

موضوعات:

loading...