پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

جرم بھی نیب والے کریں اور تحقیقات بھی نیب کرے یہ کیسے ممکن ہے؟چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا استفسار

datetime 12  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے شہری شمشاد علی کو مبینہ طور پر جعلی کال نوٹس بھیجنے کے معاملے پر ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کو 16 اپریل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیاہے۔جمعہ کوچیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ نے کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے ڈپٹی ڈائریکٹر نیب گل آفریدی اور نیب انٹیلی جنس کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کومسترد کردیا۔

نیب کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ کال اپ نوٹس جاری ہونے کے بعد حیدرآباد رجسٹرار آفس سے ملزم کو کال کی گئی، نیب کا تفتیشی افسر کسی کو براہ راست کال اپ نوٹس جاری نہیں کرتا، معاملے کی تحقیقات پولیس بھی کر رہی ہے۔چیف جسٹس احمد علی شیخ نے کہا جو انٹری رجسٹر عدالت میں پیش کیا وہ بھی گمراہ کن ہے اور لگتا ہے کل ہی بیٹھ کر یہ ترتیب دیا گیا ہے۔عدالت نے نیب کے ریکارڈ کا رجسٹر اپنی تحویل میں لے لیا، اس موقع پر پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کی ہے، کال نوٹس نیب نے جاری نہیں کیا۔جسٹس احمد علی شیخ نے استفسار کیا ڈپٹی ڈائریکٹر نیب گل آفریدی پر تو شہری کے اغواء کا مقدمہ بھی تھا اور انہوں نے اپنا تبادلہ اسلام آباد کرالیا،جرم بھی نیب والے کریں اور تحقیقات بھی نیب کرے یہ کیسے ممکن ہے؟۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کیوں نا نیب کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا آپ جس سے چاہیں تحقیقات کرالیں نیب کو کوئی اعتراض نہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ عدالت میں حل نہ ہو تو آئی ایس آئی سے بھی تحقیقات کرالیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر کو کہاکہ خاموش ہوجائو، شور مت کرو۔عدالت نے جعلی کال نوٹس بھیجنے کے معاملے پر ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کو 16 اپریل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…