جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

طالبات کا ڈیٹا چوری ہونے کے معاملے میں نیا موڑ ،پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ کا ایک اور حیران کن موقف سامنے آگیا

datetime 11  اپریل‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طالبات کا ڈیٹا چوری ہونے کے معاملے پر وضاحتیں دینا شروع کردی ہیں۔ترجمان یونیورسٹی کی وضاحت سے لگ یہ رہاہے کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ معاملہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات کے لیے ایف آئی کو خط لکھ دیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے حکام کو خط لکھ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ تحقیقات میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔ترجمان کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر طالبات کی کسی قسم کی معلومات موجود نہیں ہیں۔ ویب سائٹ پر معلومات نہ ہونے کے باعث ویب سائٹ سے ڈیٹا ہیک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ڈیٹا چوری سے متعلق خبروں میں کسی قسم کی صداقت نہیں ہے ۔ ایف آئی اے حکام یا یونیورسٹی انتظامیہ کو کسی طالبہ کی جانب سے کوئی شکایت بھی موصول نہیں ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبات کا ڈیٹا ڈارک ویب پر تاحال موجود ہے اور یہ ڈیٹا موبائل فونز سے چوری ہواہے۔یاد رہے 9اپریل کو خبر سامنے آئی تھی کہ ہیکرز کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کی طالبات کا ڈیٹا ہیک کرکے فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اسپائی ایپلیکیشنز کے ذریعے چرائی گئی یونیورسٹی طالبات کی معلومات کو مارکیٹ میں فروخت کیا جارہا ہے۔ ڈیپ ویب پرطالبات کی تصاویر، ویڈیوز اور فون نمبرز بھی دستیاب ہیں۔پنجاب یونیورسٹی کی طالبات کی معلومات ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائنز میں فروخت ہورہی ہیں۔ ایک بٹ کوائن کی قیمت پاکستانی سات لاکھ پاکستانی روپے بنتے ہیں۔اسکینڈل کا انکشاف ہونے کے بعد ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ برس برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا تھا کہ ہیکرز نے سماجی رابطوں کی معروف ویب سائٹ فیس بک کے 81 ہزار صارفین کی معلومات چرا کر فروخت کے لیے پیش کی گئی ہیں۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…