جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

لوگ یہاں ویڈیو بنا رہے ہیں ،سیلفیاں بنا رہے ہیں،حمزہ آپ بتائیں یہ سب کیا ہے؟ عدالت کے استفسار پر حمزہ شہباز نے کیا جواب دیا؟

datetime 10  اپریل‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے رمضان شوگر ملز اور صاف پانی اسکینڈل کیس میں قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی و مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز کی 17 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرلی ،عدالت نے دونوں کیسز میں حمزہ شہباز کو ایک ایک ایک کروڑ کے مچلکے بھی داخل کرانے کا حکم دیا ۔ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ حمزہ شہباز اپنے وکلاء امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کے

ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے ۔ حمزہ شہباز کی طرف سے رمضان شوگر ملز اور صاف پانی سکینڈل میں عبوری ضمانت کیلئے الگ لگ درخواستیں دائر کیں جن میں موقف اپنایا گیا کہ نیب کی طرف سے آمدن سے زائد سے اثاثہ کیس میں عبوری ضمانت منظور ہو چکی ہے اور رمضان شوگر اور صاف پانی کیس میں گرفتاری کا خدشہ ہے، نیب پہلے بھی سیاستدانوں کو کسی اور انکوائری میں بلا کر دوسرے مقدمات میں گرفتار کر چکا ہے، خدشہ ہے کہ نیب مجھے بھی کسی اور انکوائری میں بلا کر رمضان شوگر اور صاف پانی سکینڈل میں گرفتاری ڈال دے گا۔جبکہ لاہور ہائیکورٹ اپنے حکم میں کہہ چکی ہے کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے پہلے بتایا جائے۔عدالت میں شور شرابے پر جسٹس شہزاد احمد خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا،اپنے لوگوں کو سنبھالنا اعظم صاحب آپ کا کام ہے۔جس پر حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمارے کارکن آج نہیں آئے باہر سب میڈیا ہے، درخواست فائل ہوتی ہے اور میڈیا پہلے پہنچا ہوتا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا پر آتا ہے تو کارکن وہاں پہنچ جاتے ہیں ، سب نمبر بنانے یہاں آجاتے ہیں، لوگ یہاں ویڈیو بنا رہے ہیں ،سیلفیاں بنا رہے ہیں۔حمزہ آپ بتائیں یہ سب کیا ہے۔ جس پر حمزہ شہباز نے کہا کہ آپ کا اعتراض درست ہے جب گھر سے نکلا تو باہر میڈیا ہی میڈیا تھا مگر ہم کوشش کرینگے کہ آئندہ ایسی حرکت نہ ہو۔عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز کی دونوں کیسز میں 17 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرلی، عدالت کا دونوں کیسز میں حمزہ شہباز کو ایک ایک ایک کروڑ کے مچلکے بھی داخل کرانے کا حکم دیا ہے ۔بعد ازاں حمزہ شہباز اپنے وکیل امجد پرویز کے چیمبر میں چلے گئے جہاں وکلاء سے قانونی مشاورت کی گئی ۔



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…