جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں50کروڑ منتقلی کا اعتراف،رقم کیوں ٹرانسفر کی؟گرفتار محمد مشتاق کے وکیل نے حیرت انگیزموقف اختیارکرلیا

datetime 9  اپریل‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی) احتساب عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے مبینہ فرنٹ مین محمد مشتاق کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا۔احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے کیس کی سماعت کی ۔نیب پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ نے بتایا کہ ایف آی اے امیگریشن نے محمد مشتاق کو

علامہ اقبال ائیر پورٹ سے گرفتار کیا تھا،محمد مشتاق رمضان شوگر مل کے منیجر تھے، محمد مشتاق کا نام نیب کی درخواست پر ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، محمد مشتاق لاہور سے دبئی فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا، محمد مشتاق پی آئی اے کی پرواز 203سے لاہور سے دبئی روانہ ہو رہا تھا، ملزم محمد مشتاق مبینہ طور پر شہباز شریف خاندان کا فرنٹ کا کردار ادا کرتا رہا۔ملزم محمد مشتاق نے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں 50کروڑ منتقل کیے، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے اثاثے کیس میں ملزم محمد مشتاق کا کلیدی کردار ہے، عدالت تفتیش کے لیے ملزم کا پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے ۔ ملزم کے وکیل ظہیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی کہ ٹیکس کا معاملہ ہو تو ایف بی آر جانے۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کے اکاونٹ میں بیرون ممالک سے فنڈز آنا شروع ہوئے، جو رقم باہر سے ملزم کے اکاونٹ میں آتی ہے وہ رقم اسی دن سلمان شہباز کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دیئے جاتے ہیں۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ ملزم کو کبھی نیب نے بیان کے لئے نوٹس نہیں بھجوایا، سلمان شہباز کو رقم ادھار دی گئی۔۔عدالت نے نیب کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔عدالت نے ملزم کو دوبارہ 23 اپریل کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…