جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مشہور زمانہ خانانی اینڈ کالیا سکینڈل کا حیران کن فیصلہ سنا دیا گیا

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے8 سال بعد خانانی اینڈ کالیا اسکینڈل کا فیصلہ سناتے ہوئے ملوث تمام ملزمان کو بری کردیاہے۔ منی لانڈرنگ اسکینڈل میں نامزد ملزمان میں سے ایک ملزم جاوید خانانی نے خود کشی کرلی تھی۔ دیگر ملزمان میں حنیف کالیا ،مناف کالیا، جاوید خانانی، عاطف عزیز پولانی جبکہ بینکرز سید مسعود عباس ، سید وجاہت علی، تسلیم احمد اور عارف الرحمان بھی شامل تھے۔

اس سے قبل 2011 میں بینکنگ کورٹ نے 8ملزمان کو بری کیا تھا تاہم ایف آئی اے کی جانب سے بینکنگ کورٹ کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔سندھ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران وکیل صفائی نے عدالت کو دلائل میں بتایا کہ مقدمے میں ٹرائل کورٹ میں 100گواہ بلائے گئے۔ 42 گواہان نے ملزمان کے حق میں گواہیاں دیں۔سیشن عدالت میں بھی حوالہ ہنڈی ثابت نہیں ہوئی۔الزنونی ایکس چینج دبئی کی کمپنی ہے جسکا ملزمان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔واضح رہے کہ ایف آئی اے نے 2008 میں خانانی اینڈ کالیا منی ایکسچینج کیخلاف تحقیقات شروع کی تھیں اورعاطف پولانی پرفارن ایکٹ ریگولیشن 1947 کے تحت 53کروڑ ہنڈی کے ذریعے بیرونِ ملک کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔تحقیقات کے بعد تینوں ملزموں کو مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا اور مالیاتی اسکینڈل میں ملوث خانانی اینڈکالیامنی ایکسچینج کے رکن عاطف پولانی کومئی 2009 میں دبئی ائیرپورٹ سے انٹرپول کے ذریعے گرفتارکیاگیا تھا، ملزمان پر74 بے نامی اکاؤنٹس کھولنے کے بھی الزامات تھے اور ان کے خلاف 12گواہان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا ئے تھے۔ بعد ازاں ایف آئی اے کا اہم گواہ حیدرعلی مجسٹریٹ کے سامنے اپنے تحریری بیان سےمنحرف ہوگیاتھا۔گزشتہ برس نومبر میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ سارہ جنیجونے اوپن کورٹ میں خانانی اینڈکالیاگروپ حوالہ ہنڈی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان عاطف پولانی، عمران اور دانش کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔جن میں سے عاطف پولانی کو 10 سال بعد بری کیا گیا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…