منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ریلوے کے 27 انجنوں کی مرمت کے نام پر اربوں روپے کا ڈاکہ، من پسند کمپنی کو ٹھیکہ دے کر کنٹریکٹ کی ہیئت بعد میں بدل دی گئی

datetime 1  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن ) پاکستان ریلوے انجن کی بحالی کے نام پر 6 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ وزارت ریلوے اپنی عمر پوری کرنے والے 27 ریلوے انجنوں کو دوبارہ بحال کرکے مال ٹرینوں میں لگانے کا فیصلہ کیا جس کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 3 ارب 18 کروڑ روپے تھا تاہم وزارت ریلوے کے کرپٹ افسران نے 27 ریلوے انجنوں میں سے صرف پندرہ انجنوں کو مرمت کرنے میں کامیاب ہوئے جس پر لاگت چھ ارب سے زائد خرچ کردی۔

جبکہ باقی بارہ ریلوے انجن اب بھی ناکارہ ہوچکے ہیں اور انہیں زنگ آلود کردیا گیا ہے۔ وزارت ریلوے کی حساس دستاویزات میں معلوم ہوا ہے کہ ریلوے انجن کی مرمت میں تاخیر سے ادارہ کو 86 کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ متعلقہ کمپنیوں کو کنٹریکٹ کے علاوہ نو کروڑ روپے ادا کئے گئے ہیں متعلقہ افسران نے ریلوے انجن کی مرمت کے نام پر 30 کے لگ بھگ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھرتی کرلیا ہے دستاویزات میں پتہ چلتا ہے کہ افسران نے انجنوں کی مرمت کے لئے وصول کئے گئے 36 کروڑ خرچ ہی نہیں کئے بلکہ اپنی شاہ خرچیوں پر خرچ کیلئے مختص کرلئے ریلوے کے کرپٹ افسران نے 27 انجنوں کی مرمت کے لئے 4 ارب 33 کروڑ 61 لاکھ کے پرزے مختلف عالمی کمپنیوں سے خریدے جن میں بھاری مالی نقصانات اور کرپشن کی گئی ہے کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہوسکیں اس سکینڈل میں ملٹی نیشنل کمپنی ایم ایم ڈی ایل کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا ہے اس کمپنی کو پروکیورمنٹ کے ممبران نے رعایت اور مدد دی۔ کرپٹ افسران نے کمپنی کے سامنے معائدہ کرنے کے بعد مختلف اشیاء کی ہیت بھی بدل دی جس سے بھاری مال کمایا گیا تھا پرزے پاکستان میں لانے کے قبل ان کا معیار بھی چیک نہیں کیا گیا اور کمپنی کو بے پناہ فوائد دیئے گئے جبکہ کروڑوں روپے کے پرزے غیر معیاری خریدے گئے جو اب بھی ریلوے ورکشاپوں میں پڑے ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبہ کی ڈیوٹی گئی تھی

جس کی وجہ سے مر مت غیر معیاری ثابت ہوئی ریلوے کی کرپشن کا یہ نیا سکینڈل کو ریلوے افسران نے فائلوں مین دبا دیا ہے اور تحقیقات مکمل ہی نہیں کرنے دی تاہم شیخ رشید نے اس سکینڈل کا تمام ریکارڈ حاصل کرلیا ہے اور پورے معاملے کا جائزہ لے رہے ہین تاہم شیخ رشید کی قومی دولت کرپٹ افسران سے واپس لانے کی رفتار انتہائی سست ہے ریلوے کے کرپٹ افسران اربوں روپے ڈکار کر موجیں کرنے میں مصروف پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں اربوں کی کرپشن کرنے والوں کو اعلیٰ عہدے دیئے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…