جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

کرنسی کی کمزوری سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب ،آئندہ چند ماہ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کتنا زیادہ مہنگا ہوجائے گا؟ انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 26  مارچ‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹرمرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گزشتہ نو روز سے روپے کی قدر میں مسلسل کمی تشویشناک ہے۔روپے کے زوال کو روکا جائے کیونکہ اس سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب آ جائے گا جبکہ عوام زندہ درگور ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ بعض عناصراپنے مفادات کی آبیاری کے لئے آئندہ چند ماہ میں روپے کی قدر میں تیس فیصد کمی چاہتے ہیں جس سے اسکی قیمت ایک سو اکتالیس روپے سے

بڑھ کر ایک سو اسی روپے ہو جائے گی۔اگر ایسا ہوا تو ملک مہنگائی کے سیلاب میں ڈوب جائے گا، ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہونگے، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری گر جائے گی جبکہ قرضوں کے حجم اور عدم استحکام میں اضافہ ہو جائے گا ۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں روپے کی قدر میں پینتیس فیصد کمی سے برامدات میں کچھ اضافہ اور تجارتی خسارے میں معمولی کمی کے علاوہ کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکے ہیں جبکہ عوام پر بوجھ میں کھربوں روپے کا اضافہ ہوا اس لئے ناکام تجربہ نہ دہرایا جائے ۔روپے کی قدر گرانے سے جہاں مہنگائی، بے چینی اور دیگر مسائل جنم لینگے وہیں ملک کی عالمی درجہ بندی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن نے گیس کمپنیوں کا فائدہ بڑھانے کے لئے معاملات میں شفافیت لانے اور چوری و کرپشن پر کنٹرول کے بجائے گیس کی قیمت میں ہوشربا اضافے کی سفارش کی ہے جو عوام دشمنی ہے۔گیس کمپنیوں کی نا اہلی اور کرپشن کی سزا ایماندار کو صارفین کو دینا سابق حکومتوں کا طریقہ کارتھا جسے اب ترک کردینا چائیے۔وزیر اعظم گیس کی قیمتوں اضافے کی سفارش رد کردیں کیونکہ معیشت اور عوام میں اسکی سکت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…