جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

قصور ، آنکھوں کی بینائی سے محروم بچیوں کے والد کی حکومت سے علاج کی اپیل

datetime 26  مارچ‬‮  2019 |

قصور(این این آئی)میری بچیاں علاج نہ ہونے کی وجہ سے دن بدن آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوتی جارہی ہے سرکاری ہسپتالوں میں دھکوں کے سوا کچھ نہیں ملتامیں خود آنکھوں سے معذور ہوں ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ علاج نہیں کروا سکتا ہوں حکومت سے اپیل ہے کہ میری بچیوں کے علاج میں میری مددکریں نابینے باپ کی فریادتفصیلات کے مطابق قصورشہر بھٹہ گوریانوالہ کا رہائشی محمد اللہ وسایاولدمحمد سردارجو کہ بچپن سے ہی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہے

اس محرومی کو اللہ وسایاتو دنیا میں بھگت ہی رہا ہے لیکن اس کی دو بیٹیاں جو علاج نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بینائی ختم ہو رہی ہے جو باپ کے لیے لمحہ لمحہ قیامت گرنا ثابت ہو رہا ہے اللہ وسایا کا کہنا ہے کہ آنکھوں کی بینائی نہ ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی کام پر نہیں رکھتا ہے خود کا میں کوئی کام نہیں کر سکتاکئی بار میں نے معذور کوٹے میں اپلائی کیالیکن کوئی اچھی شفارش نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ترجیح ہی نہیں دی گئی جس کی وجہ سے میرے گھر میں کئی کئی روز فاقے رہتے ہیں جب میری بچیاں کھانے کے لیے مجھ سے سوال کرتی ہیں تو میرے لیے وہ لمحہ موت سے کم نہیں ہوتااس وقت مجھے اپنی معذوری کا احساس ہوتا ہے اور سوچتاہوں کہ اگر میری آنکھیں ہوتی تو میں بھی اپنی بچیوں کو کھانادے پاتالیکن اب میری دو بچیاں جس کی آنکھوں کا اپریشن ہونا ہے اگر ان کا جلد اپریشن نہ ہوا تو ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی رہی سہی بینائی بھی ختم ہو جائے گی پرائیویٹ علاج کروانے کی سکت نہیں رکھتا اورسرکاری ہسپتالوں میں دھکیں کھانے کی ہمت نہیں ہے میری وزیراعلیٰ پنجاب ،وزیراعظم پاکستان عمران خان اورمخیر حضرات سے اپیل ہے کہ میری مدد کی جائے تاکہ میری بچیاں معذوری سے بچ سکے اور مجھے معذورکوٹے میں نوکری دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…