پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر ’’وی سپورٹ اختر حسین ‘‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، طاقتور ڈرگ مافیا کے خلاف ایکشن لینے والے چیئرمین ڈریپ شیخ اختر حسین کی حمایت میں عوام نے فیصلہ سنا دیا

datetime 14  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) گزشتہ روز ’’وی سٹینڈ ود شیخ اختر حسین‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ رہا اور اس وقت ’’وی سپورٹ اختر حسین ‘‘ ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے، یاد رہے کہ چیئرمین شپ کے لیے شیخ اختر حسین کی پی ایچ ڈی کی ڈگری چیلنج ہوئی ہے ، اس ڈگری کی اس عہدے کے لیے ضرورت ہی نہیں ہے ، شیخ اختر حسین کے خلاف ڈرگ مافیا اس لیے ہوئی ہے کہ انہوں نے اس مافیا کی دو نمبر فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی ہے،

اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمیشن 2002 میں بنا ہے اور شیخ اختر حسین کی ڈگری اس سے پہلے کی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہزاروں افراد ڈیپ کے چیئرمین شیخ اختر حسین کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں،ان کی ڈگریوں کی اصلیت کے بارے میں www.Oiucm.net کے ذریعے تمام معلومات موجود ہیں، جب سے چیئرمین ڈریپ شیخ اختر حسین نے طاقتور ڈرگ مافیا کے خلاف ایکشن لیا ہے اس وقت سے چیئرمین ڈریپ کے خلاف طاقتور مافیا مختلف کارروائیوں میں مصروف ہے کبھی ایک جھوٹا کیس جس میں شیخ اختر حسین کو مردہ قرار دے کر ریلیف لینا جیسے جھوٹے کیسزبنانا جو سپریم کورٹ آف پاکستان سے جھوٹا الزام ثابت ہوچکاہے اب ایک نیا کیس جعلی ڈگری کی صورت میں بنایاگیا جو کہ سراسر غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے چونکہ کولمبو یونیورسٹی آج بھی موجود ہے اور دنیا کے متعدد ممالک بشمول پاکستان میں اس کے رجسٹرڈ آفس موجود ہیں اور اسے اس ویب ایڈریس سے جانا جاسکتا ہےwww.Oiucm.net،یہ بدقسمتی ہے کہ اس ملک میں جب بھی کوئی ایماندار شخص کسی بھی طاقتور ڈرگ مافیا کے خلاف قدم اُٹھاتاہے تو اسے نشان عبرت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے شیخ اختر حسین نے گزشتہ ستائیس سالوں میں مثالی کارکردگی دکھائی ہے جب سے انہوں نے چیئرمین کا چارج سنبھالا ہے ایک محدود مدت میں DRAP جیسے بڑے ادارے میں بے شمار اصلاحات کی ہیں جو کہ موجودہ گورنمنٹ کا بھی ایک خواب ہے جس کی پوری فارما انڈسٹری معترف ہے ایک ایسے شخص کو جو اس ملک کے لئے بہت کام کرنا چاہتاہے ایسے شخص کومختلف بہانوں سے تنگ کرکے دراصل اس ملک کو نقصان پہنچایاجارہاہے جو طاقتور ڈرگ مافیا کی آخری کوشش ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…