بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے پی آئی اے ،سٹیل ملز،ریلوے اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن سمیت 15اداروں کی نجکاری سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 9  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے پی آئی اے ،سٹیل ملز،ریلوے اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن سمیت 15پبلک سیکٹر ادارے نجکاری کی فہرست سے خارج کردئیے ہیں جبکہ 41پبلک سیکٹر اداروں کی نجکاری کیلئے متعلقہ وزاروں کو سفارشات دینے کی ہدایت کی ہے۔وزارت نجکاری کی جانب سے جاری ہونے والے دستاویزات کے مطابق حکومت نے پبلک سیکٹر کے 15اداروں کو نجکاری کی فہرست سے خارج کردیا ہے

ان اداروں میں پی آئی آے ،پاکستان سٹیل ملز،پاکستان ریلوے ،اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے علاوہ نیشنل بنک آف پاکستان ،انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ بنک لمیٹڈ ،ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان ،پاکستان اسٹیٹ آئل ،سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کمپنی ،سوئی سدرن گیس پائپ لائن کمپنی،سول ایوی ایشن اتھارٹی ،پاکستان سٹیل فبریکیٹنگ کمپنی لمیٹڈ،نیشنل ہائی وے اتھارٹی ،نیشنل کنسٹرکشن لمیٹڈ ،اور پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان شامل ہیں دستاویزات کے مطابق پبلک سیکٹڑ میں موجود 41اداروں کی نجکاری کیلئے متعلقہ وزارتوں کو موثر پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ان پبلک سیکٹر اداروں میں ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن ،نیشنل اینوسٹمنٹ ٹرسٹ لمیٹڈ،نیشنل انشورنس کمپنی ،پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ ،اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن ،او جی ڈی سی ایل ،پی پی ایل ،جی ایچ پی ایل ،پی ایم ڈی سی ،فیسکو،آئیسکو،لیسکو ،کیسکو،میپکو،ہیسکو،کاپکو،پیسکو،گیپکوِ جنکو ون ،جنکوٹو،جنکو تھری،جنکو فور،پی آئی اے کی ملکیتی روسویلٹ ہوٹل ،نیویارک ،سکرائب ہوٹل پیرس،این ایف سی ،سٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن ،ایچ ای سی ،پاکستان مشین ٹول فیکٹری ،پی آئی ڈی سی ،سندھ انجینئر نگ لمیٹڈ ،مورافکو انڈسٹریز ،رپبلک موٹرز لمیٹڈ ،پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر،ایکسپورٹ پروسیسنگ زون،پورٹ قاسم اتھارٹی ،کراچی پورٹ ٹرسٹ ،پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ،ٹی آئی پی ،پی ٹی سی ایل اور نیشنل بک فاؤنڈیشن شامل ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…