پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کا پی آئی اے اور اسٹیل مل سمیت 48 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ

datetime 6  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے 5 سال میں پی آئی اے اور اسٹیل مل سمیت 48 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کرلیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس سید مصطفی محمود کی زیرصدارت ہوا جس میں سیکریٹری نجکاری رضوان ملک نے کمیٹی کو نجکاری پروگرام پربریفنگ دی۔سیکرٹری نجکاری نے کمیٹی کے سامنے پی ٹی آئی حکومت کا نجکاری پروگرام پیش کردیا جس کے تحت حکومت نے 5 سال میں 48 ادارے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیکرٹری نجکاری نے بتایا کہ ایک سے ڈیڑھ سال میں 7 اداروں کو فروخت کیا جائیگا، ایل این جی کے 2 پاور پلانٹس پہلے مرحلے میں فروخت کیے جائیں گے، حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس کی بھی نجکاری کی جائے گی۔رضوان ملک نے بریفنگ میں بتایا کہ وومن بینک، ایس ایم ای بینک، جناح کنونشن سینٹر، لاہور انٹرنیشنل ائیرپورٹ، ماڑی اور لاکھڑا کی پہلے مرحلے میں نجکاری کی جائے گی جب کہ دوسرے مرحلے میں 3 سے 5 سال میں 41 اداروں کو فروخت کیا جائیگا۔سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ پاکستان اسٹیل خریدنے کیلئے 5 سے 6 کمپنیز سے بات چیت چل رہی ہے، ان کمپنیز کا تعلق چین اور روس سے ہے، نئے سرمایہ کار پاکستان اسٹیل کی پیدواوری صلاحیت 11 سے بڑھا کر35 لاکھ ٹن سالانہ تک لانا چاہتے ہیں، پاکستان اسٹیل کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پر فروخت کیا جائے گا، پاکستان اسٹیل کے بند ہونے سے حکومت کو ماہانہ 40 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔سیکریٹری نجکاری کمیشن کے مطابق (ن) لیگ کی حکومت کے گزشتہ 5 سال میں 5 اداروں کی نجکاری کی گئی، 2013 سے 2018 میں 5 ادارے 173 ارب روپے میں فروخت کیے گئے، پیپلزپارٹی کے2008 سے 2013 کے دورمیں ایک ادارے کی نجکاری کی گئی، مسلم لیگ ق کے 2002 سے 2007 کے دور میں 38اداروں کی نجکاری کی گئی، اس عرصے میں 38 اداروں کی نجکاری 377 ارب روپے میں کی گئی۔رضوان ملک نے بتایا کہ پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کے نقصانات 600 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، پی آئی اے کے نقصانات پونے 400 ارب روپے تک ہیں جب کہ پاکستان اسٹیل کے نقصانات 200 ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں، موجودہ حالات میں پی آئی اے کو کوئی نہیں خریدے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…